تازہ ترین
  • بریکنگ :- ہماری ریکارڈ برآمدات ہوئی ہیں ،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ترسیلات زرمیں ریکارڈ اضافہ ہواہے ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جعلی خبریں شائع کرکے مایوسی پھیلائی جارہی ہے ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہم نے ڈاکوؤں کےساتھ کوئی مفاہمت نہیں کرنی ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مشرف نے 2 گھرانوں کی چوری معاف کرکےجرم کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سیاست میں ان ڈاکوؤں کےخلاف ہی آیاہوں ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- جی ڈی پی میں 5.37فیصداضافہ ہوا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کسانوں کی آمدن میں 73فیصداضافہ ہوا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمارےدورمیں غربت کم ہوئی،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- تنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- صنعتکاروں کو بلاکرکہوں گاتنخواہ دارطبقے کی تنخواہیں بڑھائیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- لوگوں کوگھربنانے کیلئے 40 ارب روپےدےچکےہیں ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 30 لاکھ گھر بن رہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نے تعمیراتی سیکٹر میں رکاوٹیں دور کیں ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کپاس،گنا،مکئی ،چاول اورگندم کی ریکارڈ پیداوارہوئی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پام آئل پوری دنیامیں مہنگاہوا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان میں 8ہزارارب روپےٹیکس اکٹھاکروں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مہنگائی کے مسئلے سے بہت جلد نکل جائیں گے ،وزیراعظم

افغان صوبہ ننگر ہار میں خود کش کار بم حملہ، 14 فوجی مارے گئے

Published On 30 January,2021 05:18 pm

ننگر ہار: (ویب ڈیسک)افغانستان امن کو ترس گیا، صوبہ ننگر ہار میں فوجی اڈے پر خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں 14 افغان فوجی مارے گئے ہیں۔ اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان صوبے ننگر ہار ميں 30 جنوری کی صبح ہونے والے خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں 14 افغان فوجی ہلاک ہو گئے۔ ننگر ہار کی صوبائی کونسل کے رکن اجمل عمر نے بتایا کہ ضلع شیر زاد میں ہونے والے اس خودکش حملے میں چار دیگر فوجی زخمی بھی ہوئے۔ حملہ آور دھماکا خیز مواد سے لدی ایک گاڑی پر سوار تھا۔

دسری طرف افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان ترجمان کے مطابق اس کار بم دھماکے میں مجموعی طور پر 50 افغان فوجی ہلاک و زخمی ہوئے۔

افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگر ہار ميں  اسلامک اسٹيٹ‘ اور افغان طالبان دونوں ہی متحرک ہيں اور اکثر سکيورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہيں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ امن ڈیل خطرے میں پڑ گئی

یاد رہے کہ افغانستان کے وسطی صوبہ وردک میں جمعہ 29 جنوری کو افغان پولیس اور ایک مقامی کمانڈر کی مسلح ملیشیا کے درمیان جھڑپ میں 7 ملیشیا ارکان مارے گئے۔

یہ بات افغان وزارت داخلہ کی طرف سے جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب بتائی گئی۔ اس جھڑپ میں نو دیگر ملیشیا ارکان اور چند پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

وزارت کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پولیس نے 68 ملیشیا ارکان کو ضلع بہسود میں پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر گرفتار بھی کیا ہے۔

تاہم ضلع وردگ کے ایک رکن اسمبلی مہدی راسخ نے وزارت داخلہ کے اس بیان کے برخلاف کہا ہے کہ پولیس نے پر امن طور پر احتجاج کرنے والے لوگوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ 20 دیگر زخمی ہوئے۔