تازہ ترین
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کا 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان
  • بریکنگ :- 25 مئی کو 3 بجےسری نگرہائی وے پرملوں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہرمکتبہ فکرکےلوگ لانگ مارچ میں شرکت کریں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلیوں کی تحلیل اورشفاف الیکشن کی تاریخ چاہیے،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی تحلیل اورالیکشن کی تاریخ ملنےتک اسلام آباد رہیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- بیوروکریسی نےغیرقانونی کارروائی کی توایکشن لیں گے ،عمران خان
  • بریکنگ :- فوج کوکہتاہوں آپ نیوٹرل ہیں،نیوٹرل ہی رہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےجیل سےنہیں ڈرنا،جان کی قربانی دینی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- باربارکہا جاتاہے جان کو خطرہ ہے،کوئی خطرہ نہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم جان کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- غلام بننے سے بہتر موت قبول ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم چوروں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- خوف ہےیہ لوگ پٹرول ،ڈیزل ،انٹرنیٹ بندکردیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- انٹرنیٹ،پٹرول ،ٹرانسپورٹ بندہو گی،پہلےسےتیاری رکھیں،عمران خان

بھارت، پاکستان میں کشیدگی کو کم کرنیکی کوشش کر رہے ہیں: سعودی عرب

Published On 20 March,2021 10:26 pm

ریاض: (ویب ڈیسک) نائب وزیر خارجہ سعودی عرب عادل الجبیر نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران عادل الجبیر نے کہا کہ پورے خطے میں امن چاہتے ہیں اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔ ہم علاقے میں امن اور استحکام کے لیے مستقل کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن ہو یا لبنان، شام، عراق، ایران، افغانستان کا معاملہ ہو۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ہم بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے سوڈان میں استحکام پیدا کرنا ہو یا لیبیا میں جنگ کا خاتمہ ہو، ہم نے ہر جگہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔‘

عادل الجبیر نے انٹرویو میں بتایا کہ امریکا میں اقتدار کی تبدیلی سے سعودی عرب اور امریکا کے دو طرفہ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور کثیر جہتی ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی خطرات پر اب بھی امریکا ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ ایسی صورتحال میں میں نہیں سمجھتا کہ بائیڈن کی آمد سے ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔

سعودی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر حملے ہوئے ہیں جن کا ایران سے براہ راست تعلق ہے۔ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار ایران میں بنائے جاتے ہیں یا وہاں سے سپلائی کیے جاتے ہیں۔ تمام میزائل اور ڈرون ایران میں بنے ہیں یا وہاں سے شدت پسندوں کو فراہم کیے گئے ہیں۔

الجبیر نے کہا کہ ایران کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یمن میں امن ناممکن ہے۔یقین ہے کہ اس کا ایک سیاسی حل ہے۔ ہم اس سیاسی حل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بہت سال پہلے حالات خراب ہونے کے وقت سے ہی ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔