تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 21 ہزار 261 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 4.4 فیصدرہی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 87 لاکھ 97 ہزار 433 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 5117 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 20 ہزار 615 ،سندھ میں 4 لاکھ 49 ہزار 349 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 70 ہزار 738،بلوچستان میں 32 ہزار 722 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد ایک لاکھ 3 ہزار 923 ،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 232 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 33 ہزار 682 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 64 ہزار 564 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹے کےدوران کوروناسےمزید 63 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 27 ہزار 135 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 57 ہزار 77 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کورونا کے مزید 2512 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 3 ہزار 610 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 11 لاکھ 29 ہزار 562 ہوگئی

امریکا کے بعد نیٹو کا بھی افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان

Published On 15 April,2021 04:44 pm

برسلز: (ویب ڈیسک) امریکی صدر جوزف بائیڈن کی طرف سے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلاء کے اعلان کے بعد نیٹو ممالک نے بھی نیٹو ممالک نے بھی اپنی افواج کے انخلا پر ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیٹو کے اتحادی ممالک نے ایک اہم میٹنگ میں افغانستان میں اپنا آپریشن ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں امریکی فوج کو آئندہ 11 ستمبر تک افغانستان سے نکال لینے کی بات کہی گئی تھی۔

امریکا نے 2001ء میں 11 ستمبر کو نیو یارک کے ٹوئن ٹاورز پر القاعدہ کے حملے کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں نیٹو ممالک نے بھی امریکا کا ساتھ دیا تھا اور اپنی افواج افغانستان میں تعینات کی تھیں۔

برسلز میں کانفرنس کے دوران نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس سٹولٹلن برگ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں نے منظم، مربوط اور سوچ سمجھ کر یکم مئی سے  ریزولوٹ سپورٹ فورسز  کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم افغانستان کو اپنی حمایت جاری رکھیں گے، ہمارے رشتوں میں یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم افغانستان میں ایک ساتھ گئے تھے۔ ہم نے ایک ساتھ مل کر وہاں اپنا انداز اور طریقہ اختیارکیا اور وہاں سے نکلنے میں بھی ہم ساتھ ہیں۔

افغانستان سے افواج کے انخلا کے معاملے پر بات چیت کے لیے اتحادی ممالک کے دفاعی اور خارجی امور کی وزرا کی میٹنگ ہوئی جس میں اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد نیٹو کے سکریٹری جنرل نے افغانستان کے تعلق سے یہ بیان جاری کیا۔

اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب کے دوران افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اپنے منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز یکم مئی سے ہوگا اور اختتام 11 ستمبر کو ہو جائیگا۔ یہ امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا وقت ہے اور امریکا اس انخلا کے عمل میں جلد بازی سے کام نہیں لے گا۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ افغان امن مذاکرات کی حمایت کرتے اور پاکستان کےکردارکو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ امن مذاکرات میں پاکستان،روس، چین نے اہم کردار ادا کیا۔

دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے بھی فوجی انخلا کے حوالے امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات چیت کی۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں گفتگو کے بارے میں کہا کہ افغانستان امریکا کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور آسان انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے ہم اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ افغانستان کی قابل فخر سکیورٹی اور دفاعی فورسز اپنی عوام اور ملک کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔