تازہ ترین
  • بریکنگ :- مظفرگڑھ:ایک ہی خاندان کے7افرادجھلس کرجاں بحق،ریسکیوذرائع
  • بریکنگ :- مظفرگڑھ:جاں بحق افرادمیں 4بچے اور2خواتین شامل
  • بریکنگ :- مظفرگڑھ:پیرجہانیاں میں گھرمیں آگ لگ گئی،ریسکیوذرائع

جن معاملات پر پاکستان کو تشویش ہے حل کریں گے: افغان طالبان

Published On 06 September,2021 04:19 pm

کابل: (دنیا نیوز)افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کاکہنا ہے کہ جن معاملات پر پاکستان کو تشویش ہے حل کریں گے، ہماری سر زمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل میں طالبان ترجمان نے پریس کا نفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی وفد افغانستان میں امن و امان سے متعلق بات چیت کے لیے آیا تھا، وفد نے سیکیورٹی اور دیگر معاملات پر بات کی، پاکستان سے درخواست ہے وہ افغانوں کے لیے سرحدوں کے دروازے کھلے رکھے جبکہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری خطے کو جوڑنے کیلئے بہت اہم منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ہونے کے ناطے مختلف معاملات پر پاکستان کی تشویش جائز ہے تاہم جن معاملات پر پاکستان کو تشویش ہے انہیں حل کریں گے جب کہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ دشمن کے آخری گڑھ صوبہ پنج شیر کو بھی فتح کر لیا، قوم کی دعاؤں سے کامیابی حاصل کی، وادی کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔ افغانستان کےعوام طالبان کا مکمل ساتھ دیں گے، جرگہ اور مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان میں اب جنگ کا دور ختم ہو چکا، طالبان کی طرف سے اقتدار سنبھالنے پر عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ پنج شیرمیں کوشش کی گئی کہ عام شہریوں کانقصان نہ ہو، کابل میں حالات ٹھیک اور ہمارےکنٹرول میں ہیں۔ چین نے ہمیں معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے، ہماری خواہش ہو گی چین کے بڑے اقتصادی منصوبوں کاحصہ بنیں۔

یہ بھی پڑھیں: کسی کو پاکستان کیخلاف اپنی زمین استعمال کرنے نہیں دینگے:افغان طالبان کاواضح اعلان

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان سی پیک منصوبے میں شمولیت کا خواہاں ہے، نئی حکومت کی تشکیل میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے گا، کاسا گیس پائپ لائن منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے دنیا سے اپیل کی کہ افغانستان کی تعمیروترقی میں مالی معاونت کریں، افغانستان سے انخلا کے بعد تمام فوجی سازوسامان ناکارہ بنایا گیا، عام معافی کے بعد کسی کو گرفتار نہیں کیا، گرفتاریاں عام جرائم میں ملوث افراد کی ہو سکتی ہیں۔ افغانستان میں ہوائی فائرنگ پر بھی پابندی عائد کر دی، فائرنگ کرنیوالے 80 افراد کو گرفتارکیا،عام شہریوں کے اسلحہ رکھنے پر پابندی ہو گی۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ قطر اور ترکی کی معاونت سےکابل ایئرپورٹ بحال کر دیا، کابل ایئرپورٹ سے اندرون ملک پروازوں کاسلسلہ شروع کر دیا گیا۔ کابل ایئرپورٹ جلد بیرون ملک پروازوں کیلئے بحال کر دیا جائے گا۔ طالبان کی سکیورٹی فورسز کا یونیفارم متعارف کرایا ہے۔

امریکا سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے انخلا سے پہلے کابل ایئرپورٹ کو نقصان پہنچایا، پنجشیرمیں جنگ کی وجہ سےجزوی غذائی قلت کا سامنا تھا، افغانستان کےاصل مالک افغان عوام ہیں، حکومت سازی کیلئے مشاورت جاری ہے، جلد حکومت کااعلان کریں گے، پنج شیرمیں بجلی، ٹیلی فون اورانٹرنیٹ بحال کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی جانب سے پاکستان کیلئے کوئی مشکلات نہیں ہونگی: ذبیح اللہ مجاہد

دوسری طرف افغان طالبان پنج شیر کی مزاحمتی فورس پر حاوی، پنج شیر کے گورنر ہاؤس اور پولیس ہیڈ کوارٹرزپر قبضہ کر لیا، طالبان نے صوبے کے تمام 7 اضلاع کا کنٹرول سنبھالنے کا دعوی کیا ہے۔ لڑائی میں مزاحمتی فورس کے ترجمان اور ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کے بھانجے فہیم دشتی، تین اہم کمانڈرز جنرل عبدالودود، منیب امیری اور گل حیدر مارے گئے، جھڑپوں میں ایک طالبان کمانڈر بھی 13 محافظوں سمیت ہلاک ہو گیا۔

اُدھر احمد مسعود نے جنگ بندی کیلئے مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان ان کے علاقوں سے اپنی فوج پیچھے ہٹا لیں تو وہ بھی مثبت اقدامات کریں گے۔

 

افغانستان میں قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود نے اپنے فیس بک پیج پر آڈیو پیغام میں افغان عوام سے کہا ہے کہ وہ پورے افغانستان میں طالبان کے خلاف ملگ گیر قومی بغاوت شروع کریں۔مزاحمتی محاذ کی فوجیں تاحال پنجشیر میں ہیں اور طالبان کے خلاف لڑرہی ہیں۔

احمد مسعود نے طالبان پر الزام لگایا کہ اُن کے جنگجووں نے پنجشیر کے مقامی علما کے کہنے پر جنگ روک دی تھی لیکن طالبان جنگجووں نے وعدے کی خلاف ورزی کی اور جنگ جاری رکھی۔ اتوار کو طالبان کے ساتھ لڑائی میں اُن کے خاندان کے کچھ لوگ ہلاک بھی ہوئے۔

تاہم انہوں نے طالبان کے پنجشیر پر مکمل قبضے کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مزاحتمی فوجیں تاحال پنجشیر کے سڑیٹجک حصے میں موجود ہیں۔ عالمی برادری طالبان کو عسکری اور سیاسی طور پر مضبوط اور زیادہ مضبوط ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ طالبان تبدیل نہیں ہوئے اور پہلے سے زیادہ شدت پسند ہیں۔