نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے اسرائیل سے امدادی تنظیموں پر پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے متعدد انسانی امدادی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی امدادی کارروائیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقورامی امدادی تنظیموں کو سالانہ تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر کی امداد فراہم کی جاتی ہے، اداروں نے خبردار کیا کہ غزہ میں موسم سرما کے باعث مشکلات میں اضافے، شدید غذائی عدم تحفظ اور جان بچانے والی امداد کی فوری ضرورت کے پیش نظر امدادی تنظیموں پر پابندی جنگ بندی کے دوران حاصل ہونے والی نازک پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے لئے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی امداد تک رسائی کوئی اختیاری معاملہ نہیں اور نہ ہی اسے کسی شرط یا سیاسی مصلحت سے مشروط کیا جا سکتا ہے، یہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک قانونی ذمہ داری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بنیادی تقاضا ہے۔
بیان پر دستخط کرنے والوں میں اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر، عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگیو، بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی ڈائریکٹر جنرل ایمی ای پوپ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو، یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل، یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس اور عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریاسس سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل یکم جنوری 2026ء سے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں درجنوں بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ ان تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی رجسٹریشن تقاضوں کی مبینہ عدم تعمیل بتائی گئی ہے۔



