خلاصہ
- ابوظہبی: (سید مدثر خوشنود) متحدہ عرب امارات کی ثالثی کے نتیجے میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے ایک نئے تبادلے کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے 200،200 قیدیوں کو رہا کیا۔
حکام کے مطابق اس پیش رفت میں امریکہ کے تعاون سے سفارتی کوششیں کی گئیں جن کے نتیجے میں انسانی بنیادوں پر قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہوا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یو اے ای نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے قائم رکھنے اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا، حکام نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد انسانی پہلو کو ترجیح دیتے ہوئے قیدیوں کی واپسی کو ممکن بنانا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے باعث متعدد انسانی مسائل اور قیدیوں کی رہائی کے معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ یو اے ای اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے متعدد اقدامات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکا ہے۔
حکام کے مطابق یو اے ای آئندہ بھی انسانی بنیادوں پر اقدامات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازعات کے حل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد متاثرہ افراد اور خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنا اور کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔