ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کچھ واقعات میں کم عمر لڑکیوں کا استحصال کیا گیا، جنسی تعلق کے بدلے خوراک یا ملازمت کی پیشکش کی جاتی تھی۔

یہ جرائم سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے تقریباً ایک سال بعد مشرقی چاڈ میں 2024 میں پیش آئے تھے۔

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس نے 18 ملزمان کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، بعض دیگر مبینہ ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

جولائی میں سامنے آئی ایم ایس ایف کی اپنی رپورٹ کے مطابق استحصال کے ایسے طریقے اپنائے گئے جو ممکنہ طور پر جنسی سمگلنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کچھ متاثرین نے اس خوف کے باعث خاموشی اختیار کی کہ کہیں انھیں امداد تک رسائی سے محروم نہ کر دیا جائے۔

ایم ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ جن افراد نے شکایت کی، انہیں بعض اوقات کوئی جواب یا مدد نہیں ملی، جبکہ باضابطہ شکایتی طریقہ کار زیادہ تر ناکارہ ثابت ہوا۔

ایم ایس ایف نے بتایا کہ یہ غلط طرزِ عمل تنظیم کی اقدار اور ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انہیں اس سے پہنچنے والے نقصان پر گہرا افسوس ہے۔

تقریباً تین برس قبل اپنی سوڈانی فوج اور طاقتور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید اقتدار کی کشمکش کے بعد سے سوڈان خانہ جنگی کا شکار ہے۔

اب اسے دنیا کا بدترین انسانی بحران تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جبکہ دو کروڑ 80 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔

اس تنازع میں ہونے والہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد معلوم نہیں تاہم یہ تعداد کم از کم ڈیڑھ سے چار لاکھ اموات کے درمیان ہو سکتی ہے۔