تازہ ترین
  • بریکنگ :- پھالیہ:کوٹ ستارکےقریب ڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ،2افرادجاں بحق،پولیس
  • بریکنگ :- پھالیہ:کوٹ ستارکےقریب ڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ،2افرادجاں بحق،پولیس
  • بریکنگ :- پھالیہ:کوٹ ستارکےقریب ڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ،2افرادجاں بحق،پولیس

وہ 22 کرکٹرز جو قتل کر دئیے گئے

Published On 20 June,2021 06:22 pm

لاہور: (دنیا میگزین) ہم اپنے معزز قارئین کو اس مضمون میں ان کرکٹرز کے بارے میں بتائیں گے جو قتل کر دئیے گئے۔ قتل ہونے والوں میں دو کے سوا سب فرسٹ کلاس کرکٹرز تھے۔ بعض کرکٹ چھوڑ چکے تھے اور انہیں نامعلوم وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا۔ پاکستانی کرکٹرز حسیب الحسن اور راحت اللہ بھی غیر فطری موت کا شکار ہوئے، دونوں کی عمریں 30 سال سے کم تھیں

ایڈورڈ رائٹ (انگلینڈ)

ایڈورڈ رائٹ 11 مارچ 1859ء کو پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے۔ انہوں نے 18 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور 23.71 رنز کی اوسط سے 759 رنز بنائے۔ رائٹ نے 47 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ 22 نومبر 1902ء کو جمیکا میں ایک جگہ فسادات ہوئے۔ اگلے دن ایڈورڈ رائٹ اپنے ایک ساتھی انسپکٹر کلارک کے ساتھ جائے وقوعہ پر گئے۔ ان پر مقامی پولیس نے غلط فہمی کی بنا پر حملہ کر دیا۔ ایک دن بعد رائٹ کی ٹوٹی ہوئی کھوپڑی ملی۔ انسپکٹر کلارک کو فوراً علم ہو گیا کہ رائٹ پولیس حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔ رائٹ کی عمر 46 برس تھی۔

کلاڈ ٹوزر (آسٹریلیا)

27 ستمبر 1890ء کو جنم لینے والے کلاڈ ٹوزر دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے۔ وہ 1911ء سے 1920ء تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے رہے۔ انہوں نے سات فرسٹ کلاس میچز میں 46.72 رنز کی اوسط سے 514 رنز اپنے نام کیے۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 103 رنز رہا۔ کلاڈ ٹوزر میڈیکل ڈاکٹر بھی تھے۔ 21 دسمبر 1920ء کو ان کی ایک مریضہ نے انہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ شادی شدہ مریضہ ٹوزر کے عشق میں گرفتار تھی اور اس نے شدید مایوسی کی حالت میں ٹوزر کو موت کی نیند سلا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مریضہ کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور اسے 9 سال قید کی سزا دیدی گئی۔ ٹوزر کی عمر اس وقت صرف 30 برس تھی۔

رابرٹ مکانٹ (انگلینڈ)

وہ لنکا شائر کائونٹی کی جانب سے کھیلتے تھے۔ 18 جون 1922ء کو کردستان میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔

نارمن ریڈ (جنوبی افریقہ)

نارمن ریڈ 26 دسمبر 1890ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1921ء میں جنوبی افریقہ کیلئے ایک ٹیسٹ میچ کھیلا۔ وہ 1920ء سے 1923ء تک ویسٹرن پراونس (مغربی صوبے) کی طرف سے کھیلتے رہے۔ وہ آل رائونڈر تھے اور ایک عمدہ فیلڈر بھی تھے۔ انہوں نے واحد ٹیسٹ آسٹریلیا کی خلاف کھیلا جس میں انہوں نے 17 رنز بنائے اور 2 وکٹیں حاصل کیں۔ جون 1947ء کو ریڈ کو ان کی بیوی نے ہلاک کر دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ ان کی بیوی کا ذہنی توازن خراب تھا، پھر اس نے بھی خود کشی کر لی۔ موت کے وقت نارمن ریڈ کی عمر 57 برس تھی۔

ہنٹس مین ولیمز (رہوڈیشیا‘ اب زمبابوے)

10 جون 1944ء کو پیدا ہونے والے ہنٹس مین ولیمز فرسٹ کلاس کرکٹر تھے۔ 1963-64ء میں انہوں نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ کھیلا۔ وہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی میڈیم فاسٹ باؤلنگ کرتے تھے۔ انہوں نے 9 فرسٹ کلاس میچز میں حصہ لیا اور 143 رنز بنائے۔ ولیمز نے 14 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ کرکٹ چھوڑ کر انہوں نے کاشتکاری شروع کر دی تھی۔ پھر انہوں نے محکمہ پولیس میں نوکری کر لی۔ 3 اگست 1978ء کو دہشتگردوں نے ان کی گاڑی پر گرینیڈ سے حملہ کیا۔ وہ شدید زخمی ہو گئے اور بعد میں دم توڑ گئے۔ ان کی عمر 34 برس تھی۔

جیف سٹالمیئر (ویسٹ انڈیز)

سٹالمیئر ویسٹ انڈیز کے بڑے مشہور کرکٹر تھے۔ 11 مارچ 1921ء کو پیدا ہونے والے سٹالمیئر نے 32 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 13 ٹیسٹ میچز میں کپتانی کے فرائض سرانجام دئیے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سٹالمیئر نے ویسٹ انڈیز کرکٹ انتظامیہ کے اہم رکن کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ ستمبر 1989ء کو ان کے گھر (پورٹ آف سپین) پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ وہ شدید زخمی ہو گئے اور ان کو ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں 10 ستمبر 1989ء کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

منی لال (بھارت)

منی لال سابق بھارتی کرکٹر ارون لال کے چچا تھے۔ وہ ویسٹ انڈیز میں بھارت کے ہائی کمشنر بھی رہے۔ اس کے بعد وہ صومالیہ میں بھی بھارت کے سفیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ 11 جنوری 1913ء کو پیدا ہونیوالے منی لال دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب اور شمالی بھارت کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے 20 فرسٹ کلاس میجز میں 23.97 رنز کی اوسط سے 815 رنز بنائے۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 90 تھا۔ 1990ء میں ڈکیتی کی ایک واردات میں منی لال اور ان کی بیوی کو قتل کر دیا گیا تھا۔

حسیب الحسن (پاکستان)

یہ پاکستانی کرکٹر 11 مئی 1964ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور بائیں ہاتھ سے ہی میڈیم فاسٹ باؤلنگ کرتے تھے۔ انہوں نے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا البتہ 32 فرسٹ کلاس میچز میں انہوں نے 31.02 رنز کی اوسط سے 1365 رنز اپنے نام کئے۔ حسیب الحسن نے 1 سنچری اور 9 نصف سنچریاں بنائیں۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 104رنز تھا۔ انہوں نے فرسٹ کلاس میچز میں 59 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ 18 اپریل 1990ء کو انہیں ایک نامعلوم مسلح شخص نے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے صرف 26 برس کی عمر پائی۔

ولیم سٹرائیڈم (جنوبی امریکہ)

21 مارچ 1942ء کو پیدا ہونیوالے ولیم سٹرائیڈم نے 80 فرسٹ کلاس میچز میں 1322 رنز بنائے۔ انہوں نے 174 وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔ انہوں نے ایک نصف سنچری بنائی۔ ولیم سٹرائیڈیم کو 25 فروری 1995ء کو اپنے کاروباری مرکز میں ڈکیتی کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی عمر 52 برس تھی۔

مہندا جے رتنے (سری لنکا)

سری لنکا سے تعلق رکھنے والے یہ کرکٹر 11 مئی 1967ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 6 فرسٹ کلاس میچز میں حصہ لیا۔ 15 مارچ 1997ء کو موٹر سائیکل پر سوار ایک مسلح شخص نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ مہندا جے رتنے نے ایک مقامی انتخاب میں ایک امیدوار کی انتخابی مہم چلائی تھی۔ ان کی عمر صرف 29 برس تھی۔

ایشلے ہاروے واکر (جنوبی افریقہ)

ایشلے واکر نے 21 جولائی 1944ء کو لندن میں جنم لیا۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی آف بریک باؤلنگ کرتے تھے۔ وہ بہت عرصہ تک کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے رہے۔ واکر نے 81 فتسٹ کلاس میچز میں 23.95 رنز کی اوسط سے 3186 رنز بنائے۔ انہوں نے 3 سنچریاں اور 19 نصف سنچریاں اپنے نام کیں۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 117 تھا۔ واکر نے 33.82 رنز کی اوسط سے 34 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ 28 اپریل 1997ء کو ہاروے واکر کو ایک مسلح شخص نے جوہانسبرگ کے ایک پرائیویٹ کلب میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ویرانتھا فرنینڈو (سری لنکا)

یہ کرکٹر 6 فروری 1959ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 13 فرسٹ کلاس میچز میں 38.53 رنز کی اوسط سے 501 رنز بنائے جن میں 1 سنچری اور 4 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ان کا ایک اننگز میں زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 111 رنز تھا۔ وہ سیاست کے میدان میں بھی آئے اور عوامی اتحاد (Peoples Alliance) کے رکن تھے۔ 14 اپریل 2000ء کی رات کو ان کا دو سائیکل سواروں سے کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ بعد میں وہ سائیکل سوار 20 آدمیوں کا گروہ لے کر آ گئے جو چاقوؤں اور تلواروں سے مسلح تھے۔ وہ سب فرنینڈو کے گھر میں داخل ہو گئے اور مکینوں پر حملہ کر دیا۔ فرنینڈو کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ انہوں نے 41 برس کی عمر پائی۔

فرینکوس ویڈ مین (جنوبی افریقہ)

ویڈمین نے 19 ستمبر 1960ء کو جنم لیا۔ وہ میڈیم فاسٹ باؤلر تھے اور دائیں ہاتھ سے بلے بازی بھی کر لیتے تھے۔ انہوں نے 40 فرسٹ کلاس میچز میں 15.39 رنز کی اوسط سے 662 رنز بنائے۔ ان کی باؤلنگ خاصی متاثر کن رہی۔ انہوں نے 22.34 رنز کی اوسط سے 135 وکٹیں اڑائیں۔ جنوبی افریقہ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی قابل تحسین تھی۔ کرکٹ سے علیحدگی کے بعد ویڈمین نے پہلے جنوبی افریقہ کرکٹ یونین کیلئے کام کیا پھر بعد میں سی ایم آر گولف کورس میں کام شروع کر دیا۔ 2001ء کو ڈکیتی کی ایک واردات میں وہ قتل کر دئیے گئے۔ 40 سالہ ویڈمین کو ڈاکوؤں نے گردن، پیٹ اور ٹانگ پر گولیاں ماریں۔

نظام احمد حفیظ (امریکہ)

وہ 21 اپریل 1969ء کو گیانا میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق امریکہ سے تھا۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتے تھے اور دائیں ہاتھ سے ہی میڈیم فاسٹ باؤلنگ بھی کراتے تھے۔ انہوں نے 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور 40 رنز بنائے۔ ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 10 رنز تھا۔ نظام احمد حفیظ 11 ستمبر 2011ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے دوران جاں بحق ہو گئے تھے۔

مارک پارکر (نیوزی لینڈ)

دو اکتوبر 1975ء کو پیدا ہونے والے مارک پارکر نے 1996-97ء میں 3 فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔ ہاکے کپ (Hawkey Cup) میں جنوبی کنٹیربری کی طرف سے بھی وہ کھیلے۔ مارک ہارکر نیوزی لینڈ کے کرکٹر مرے ہارکر کے بیٹے اور جان ہارکر کے بھتیجے تھے۔ وہ بہت ذہین کرکٹر تھے۔ ان کے بارے میں سب کرکٹرز کی رائے تھی کہ وہ مزید فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں۔ ان کی ٹائمنگ لاجواب تھی۔ 2002ء میں بالی (انڈونیشیا) میں بمباری کے دوران وہ شدید زخمی ہو گئے۔ وہ انگلینڈ میں ہمپشائر کلب کی طرف سے کھیلنے کے بعد بالی میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ موت کے وقت ان کی عمر صرف 27 سال تھی۔

راحت اللہ (پاکستان)

23 جون 1969ء کو پشاور میں پیدا ہونے والے اس پاکستانی کرکٹر نے قائداعظم ٹرافی کیلئے 3 فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی بڑی مووثر میڈیم فاسٹ باؤلنگ کراتے تھے۔ ان کی بیٹنگ قابل ذکر نہیں لیکن انہوں نے باؤلنگ میں کچھ کمالات دکھائے۔ راحت اللہ نے 19.00 کی اوسط سے 16 وکٹیں اپنے نام کیں۔ انہوں نے انڈر 19 کرکٹ کے رکن کی حیثیت سے آسٹریلیا اور بھارت کا دورہ بھی کیا۔ 11 فروری 2008ء کو انہیں نامعلوم افراد نے گولی مار کر موت کی نیند سلا دیا تھا۔

لاؤس وورسٹر (جنوبی افریقہ)

ووسٹر 2 نومبر 1966ء کو پیدا ہوئے۔ وہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے آف بریک باؤلنگ کرتے تھے۔ انہوں نے 95 فرسٹ کلاس میچز میں 33.23 رنز کی اوسط سے 4786 رنز بنائے جن میں 7 سنچریاں اور 26 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 188 رنز رہا۔ وورسٹر نے 41 رنز دے کر ایک وکٹ بھی اپنے نام کی۔ 17 اپریل 2002ء کو انہیں پری ٹوریا کے باہر ایک مسلح ڈکیتی کے دوران قتل کر دیا گیا۔ اس وقت وہ 45 برس کے تھے۔

ایرل پرٹ (امریکہ)

ان کا تعلق بنیادی طور پر جمیکا سے تھا۔ انہوں نے 1990ء آئی سی سی ٹرافی میں امریکہ کی نمائندگی کی اور 41.80 رنز کی اوسط سے 209 رنز بنائے۔ امریکہ مشرقی اور وسطی افریقہ کیخلاف کامیاب رہا لیکن پھر کینیا اور زمبابوے سے ہار گیا۔ ٹورنامنٹ کے فرسٹ راؤنڈ میں امریکہ کو کامیابی ملی۔ 2 دسمبر 2012ء کو ایرل پرٹ کو میامی گارڈنز فلوریڈا میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جب انہوں نے اپنے کاروباری مرکز میں ایک گاہک کی مسلح ڈکیتی کے دوران جان بچانے کی کوشش کی۔ پرٹ کی عمر 59 سال تھی۔

کنٹل چندرا (بنگلا دیش)

چندرا 8 نومبر 1984ء کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ وہ وکٹ کیپر بلے باز تھے۔ انہوں نے چٹاگانگ ڈویژن اور سلہٹ ڈویژن کی طرف سے کرکٹ کھیلی۔ چندرا نے تین فرسٹ کلاس میچز میں 132 رنز بنائے۔ ان کی اوسط 26.40 رنز رہی۔ ایک اننگز میں ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی سکور 71 رنز تھا۔ 3 دسمبر 2012ء کو کنٹل چندرا ڈھاکہ کے نزدیک مردہ پائے گئے۔ پولیس تحقیقات کے مطابق چندرا کو گلا گھونٹ کر ابدی نیند سلا دیا گیا۔

جون کومنز (جنوبی افریقہ)

6 نومبر 1941ء کو کیپ ٹاؤن میں پیدا ہونے والے جون کمنز نے 10 فرسٹ کلاس میچ کھیلے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور دائیں ہاتھ سے ہی لیگ سپن باؤلنگ کرتے تھے۔ انہوں نے 10 فرسٹ کلاس میچز میں 110 رنز بنائے۔ جبکہ انہوں نے 27 وکٹیں بھی اپنے نام کیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی بہت اچھی تھی۔ انہوں نے جنوبی صوبے (Eastern Province) کے خلاف کھیلتے ہوئے 18.50 رنز کی اوسط سے 22 وکٹیں اڑائیں۔ یہ 1960-61 ء کی بات ہے۔ وہ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے، یکم جنوری 2013ء کو انہیں کیپ ٹاؤن میں ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی عمر 71 برس تھی۔

فکرے کراک ویل (برمودہ)

کراک ویل نے 8 جولائی 1985ء کو جنم لیا۔ وہ وکٹ کیپر بلے باز تھے۔ انہوں نے 3 فرسٹ کلاس اور 2 ایک روزہ انٹرنیشنل میچوں میں حصہ لیا۔ ایک روزہ میچز میں ان کا سکور 68 رنز تھا اور ان کی اوسط 34.00 رنز کی تھی۔ ایک اننگز میں ان کا انفرادی سکور 45 رنز تھا۔ انہوں نے برمودہ کی طرف سے انڈر 19 کرکٹ بھی کھیلی۔ 20 جون 2016ء کو کراک ویل برمودہ کے ایک علاقے میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ موت سے پہلے انہیں شدید زخمی حالت میں دیکھا گیا۔

ولیم ہائے (ویسٹ انڈیز)

جمیکا میں جنم لینے والے ولیم ہائے نے 1970ء اور 1977ء کے درمیان سات فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔ وہ 15 ستمبر 1948ء کو پیدا ہوئے جبکہ 18 مارچ 2019ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پہلے ان کے گھر کو آگ لگائی گئی اور پھر انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

تحریر: عبدالحفیظ ظفر