ملزم مجھے بھی مارنا چاہتا تھا، بھاگ کر جان بچائی: والدہ عمیر شہاب

ملزم مجھے بھی مارنا چاہتا تھا، بھاگ کر جان بچائی: والدہ عمیر شہاب

کراچی: (دنیا نیوز) جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کراچی کےعلاقے ڈیفنس میں قتل ہونے والے ڈی آئی جی پشاور شہاب مظہر کے بیٹے کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ درخشاں تھانے میں مقتول کی والدہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں قتل اور ڈکیتی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ گرفتار ملزم کانسٹیبل فقیر محمد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقتول عمیر شہباب کی والدہ نے کہا ہے کہ وہ کمرے میں سو رہی تھیں، شور شرابے کی آوازیں آئیں تو وہ باہر نکلیں تو دیکھا کہ فقیر محمد نے ان کے بیٹے کو دبوچا ہوا ہے، اس کے ہاتھ میں رسی تھی اور وہ رسی سے اس کا گلا گھونٹ رہا تھا۔ انہوں نے بیٹے کو تڑپتا دیکھ کر شور مچایا تو ملزم فقیر محمد ان کے پیچھے بھی بھاگا۔ انہوں نے بھاگ کر خود کو دوسرے کمرے میں بند کر لیا اور اپنی جان بچائی۔ اسی دوران ان کی بیٹی نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس موقع پر پہنچی تو عمیر مر چکا تھا جبکہ ملزم فقیر محمد دوسرے کمرے میں چھپ گیا تھا۔ پولیس نے دروازہ توڑ کر ملزم فقیر محمد کو گرفتار کیا جس کی جیب سے مقتول کا موبائل فون اور گھڑی ملی۔ پولیس نے ملزم فقیر محمد کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت میں پیش کر کے تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔