بھارت کے لیجنڈری اداکار منوج کمار 87 برس کی عمر میں چل بسے

Published On 04 April,2025 10:48 am

ممبئی: (ویب ڈیسک) بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار منوج کمار طویل علالت کے بعد 87 برس کی عمر میں چل بسے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ان کا انتقال جمعہ کو ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی ہسپتال میں دل کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوا، جہاں وہ طویل عرصے سے صحت کے مسائل کا شکار تھے، ہسپتال کے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے مطابق ان کی موت کی دوسری وجہ جگر کی خرابی تھی۔

منوج کمار کے بیٹے، کنال گوسوامی نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ ان کے والد طویل عرصے سے صحت کے مسائل سے لڑ رہے تھے اور وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے والد نے اس دنیا کو پرامن طریقے سے الوداع کہا، ان کی آخری رسومات ہفتے کو پون ہنس قبرستان میں ادا کی جائیں گی۔

منوج کمار 24 جولائی 1937 کو ایبٹ آباد (جو اس وقت برصغیر کا حصہ تھا اور اب خیبر پختونخواہ، پاکستان میں واقع ہے) میں پیدا ہوئے، ان کا پیدائشی نام ہری کرشنن گوسوامی تھا، انہوں نے بالی ووڈ میں اپنے کیریئر کا آغاز 1957 میں فلم ”فیشن“ سے کیا اور 1961 میں ”کانچ کی گڑیا“ میں اپنی اداکاری سے شہرت حاصل کی۔

منوج کمار کو خاص طور پر حب الوطنی پر مبنی فلموں جیسے ”شہید“ (1965)، ”اپکار“ (1967)، ”پورب اور پچھم“ (1970) اور ”کرانتی“ (1981) میں اپنے کرداروں کیلئے جانا جاتا ہے، جنہوں نے انہیں ”بھارت کمار“ کا لقب دیا، ان کی فلموں نے نہ صرف سینما کو نیا رخ دیا بلکہ قومی جذبے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”شور“ (1972) بھی خاصی مشہور ہوئی۔

منوج کمار کو ان کی بے مثال خدمات پر 1992 میں پدم شری اور 2015 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، ان کا یہ کہنا تھا کہ ”سینما صرف تفریح کیلئے نہیں ہے، یہ قوم کے کردار کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔“

ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے فوراً بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، مودی نے لکھا، ”منوج کمار جی ہندوستانی سینما کے ایک آئکن تھے، جنہیں خاص طور پر ان کے حب الوطنی کے جذبے کیلئے یاد کیا جائے گا، ان کی فلموں نے قومی فخر اور عزم کا جذبہ جگایا اور نسلوں کو متاثر کیا۔“

منوج کمار کی وفات نے بھارتی فلم انڈسٹری کو ایک بڑے نقصان سے دوچار کیا ہے، اور سنیما کی دنیا میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔