تازہ ترین
  • بریکنگ :- دنیا نے بھارتی اقدامات کویکسرمسترد کیا ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- عالمی فورمزپربھارتی اقدامات پرکڑی تنقید کی گئی ،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان کشمیریوں کی قربانیوں کوقدرکی نگاہ سے دیکھتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کشمیرکازسے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا یوم استحصال کے موقع پر پیغام
  • بریکنگ :- مقبوضہ کشمیرمیں غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2سال ہوچکےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت نےغیرقانونی تسلط برقراررکھنےکیلئےفوجی محاصرہ کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت نےکشمیریوں کےبنیادی حقوق پرپابندیاں عائدکردیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت کشمیریوں کےپختہ ارادوں کومتزلزل نہیں کرسکا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کشمیریوں کومسلسل انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت کامقصد مقبوضہ کشمیرکےجغرافیائی ڈھانچے کوتبدیل کرناہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارت کشمیریوں کو اپنی سرزمین پراقلیت میں بدلنا چاہتا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بھارتی اقدامات اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کشمیری حق خودارادیت کیلئے پرعزم جدوجہد کررہے ہیں،وزیراعظم

’کورونا ایک موسمی وائرس ہے‘: سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں جعلی قرار

Published On 05 June,2021 09:12 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہو رہی ہیں جس میں ڈبلیو ایچ او کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کورونا ایک موسمی وائرس ہے۔ یہاں بتاتے چلیں کہ یہ خبریں جعلی ہیں۔

سوشل میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں کہ ڈبلیو ایچ او نے مکمل طور پر یوٹرن لینے کی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کا ہے کہ کورونا ایک موسمی وائرس ہے۔ موسم کی تبدیلی کے دوران یہ گلے کی سوزش ہے۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

پیغام کے مطابق ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اب کورونا مریض کو الگ تھلگ ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی عوام کو معاشرتی دوری کی ضرورت ہے۔ یہ یک مریض سے دوسرے شخص میں بھی منتقل نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات کے بعد وزارت صحت کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ سوشل میڈیا اور واٹس اپپ پر چلنے والی یہ خبر بالکل غلط ہے۔ WHO نے کبھی ایسی بات نہیں کی۔

وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے ہی ہم وبا کے پھیلاؤ پر کچھ حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمیشہ مستند ذرائع کی خبر پر یقین کریں۔