تازہ ترین
  • بریکنگ :- لاہور:شرقپورمیں اغواکےبعد 7 سالہ بچی کےقتل کا واقعہ
  • بریکنگ :- آرپی اوکےملزمان کی فوری گرفتاری کےاحکامات جاری
  • بریکنگ :- ملزمان کوگرفتارکرکےسخت کارروائی کی جائےگی،آرپی او
  • بریکنگ :- لاہور:2مشتبہ افرادکوحراست میں لےلیا،ڈی پی اواحسن سیف اللہ
  • بریکنگ :- انصاف کی فوری فراہمی یقینی بنائیں گے،ڈی پی اواحسن سیف اللہ

پاکستان میں جعلی خبریں بیرون ملک سے چلائی جانے لگیں

Published On 30 June,2021 07:39 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں جعلی خبریں بیرون ملک سے چلائی جانے لگیں۔ اس بات کا انکشاف وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔

جعلی خبروں کے بارے میں ہونے والی دنیا کی بڑی تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فیک نیوز بہت تیزی سے اور بہت دور تک پھیلتی ہیں۔ اس حد تک کہ صحیح خبریں بھی ان کے سامنے ختم ہو جاتی ہیں۔ دس برسوں میں انگریزی زبان میں 30 لاکھ افراد کی سوا لاکھ سے زیادہ ٹویٹس پر تحقیق کے بعد محققین کا دعویٰ ہے کہ جعلی خبریں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔

پاکستان میں بھی جعلی خبریں روز بروز پنپ رہی ہیں، ملک کا بدترین دشمن بھارت جعلی خبریں پھیلانے والوں میں پیش پیش ہے۔ گزشتہ سال یورپی تنظیم ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے بھارتی جھوٹ کی فیکٹری ’انڈیا کرونیکل‘ اور ’ای یو کرونیکل‘ کو بے نقاب کیا تھا۔ پندرہ سال سے جاری بھارتی مہم کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو بدنام کرنیکی سازش، بھارت کی جانب سے جعلی خبریں چلانے کا انکشاف

اسی طرح دو روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں 3 چار مقامات سے جعلی خبریں چلتی ہیں، جس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جعلی ٹویٹس وجود میں آتی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان جعلی ٹویٹس کو افغانستان سے طاقت ملتی ہے پھر وہ ہمارے ملک میں آتی ہیں اور ہمارے کچھ نادان دوست اس کا حصہ بن جاتے ہیں، اسی لئے ہمیں آزادی رائے کے بھاشن نہ دیئے جائیں، ہمارے ملک میں چینلز آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی لیکن اب ڈس انفارمیشن کی صورت میں لڑائی کا سامنا ہے۔ کالعدم تنظیم کی کارروائیوں کو بھارتی شہر سے لاکھوں بار ٹوئٹ کیاگیا۔ گزشتہ دنوں ڈس انفولیب پکڑی گئی جو پاکستان سے متعلق جعلی منفی خبریں پھیلاتی تھی۔