تازہ ترین
  • بریکنگ :- رواں مالی سال اب تک ترسیلات زر 11.9فیصداضافےسے 10.6ارب ڈالرریکارڈ
  • بریکنگ :- ملکی برآمدات 32.2فیصداضافےسے 9.7ارب ڈالرکی سطح پرپہنچ گئیں
  • بریکنگ :- درآمدات 66.3فیصداضافےسے 23.5ارب ڈالرہوگئیں،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- رواں مالی سال کےپہلے 4ماہ میں تجارتی خسارہ 13.8 ارب ڈالرتک پہنچ گیا
  • بریکنگ :- کرنٹ اکاؤنٹ خسارےمیں 5.1 ارب ڈالرکااضافہ ریکارڈکیاگیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.7 فیصدریکارڈکیاگیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 4فیصدکمی سے 662.1 ملین ڈالررہی
  • بریکنگ :- زرمبادلہ ذخائر 23نومبرتک 22ارب 98 کروڑڈالرسےزائدہوگئے،رپورٹ
  • بریکنگ :- وزارت خزانہ کی ملکی معیشت پرآؤٹ لک رپورٹ جاری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:نان ٹیکس آمدنی میں کمی ریکارڈکی گئی،وزرات خزانہ
  • بریکنگ :- درآمدات،محصولات،ترسیلات زر،برآمدات،بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ
  • بریکنگ :- 4 ماہ میں ٹیکس ریونیو 36.8فیصداضافےسے 1843ارب روپےرہا،رپورٹ
  • بریکنگ :- 4 ماہ میں پی ایس ڈی پی کی مدمیں 392.7ارب روپےمنظورکیےگئے
  • بریکنگ :- 3 ستمبرتک مالیاتی خسارہ بڑھ کر 438ارب روپےتک پہنچ گیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- زرعی قرضے 6.5فیصداضافےسے 381.3ارب روپےکی سطح پررہے
  • بریکنگ :- اکتوبرمیں مہنگائی کی ماہانہ شرح 9.2فیصدریکارڈکی گئی،رپورٹ
  • بریکنگ :- جولائی تااکتوبرمہنگائی کی سالانہ شرح 8.7 فیصدریکارڈ،رپورٹ
  • بریکنگ :- جولائی تاستمبربڑی صنعتوں کی شرح نمومیں 5.2 فیصداضافہ ہوا،رپورٹ

کورونا سے متعلق غلط معلومات، فیس بک نے سیکڑوں اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیئے

Published On 18 August,2021 07:28 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک نے کورونا سے متعلق غلط معلومات پھیلانے والے سیکڑوں اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کردیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق گزشتہ ماہ کورونا ویکسین کے بارے میں غلط خبریں پھیلانے والے 65 فیس بک اور فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر 243 اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کردیا۔

فیس بک گلوبل تھریٹ انٹیلی جنس کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایاکہ آپریشن کا ٹارگٹ بھارت اور لاطینی امریکا کے ممالک تھے۔

فیس بک انٹیلی جنس سربراہ کے مطابق ڈیلیٹ کیے گئے اکاؤنٹس پر لوگ بغیر تحقیق کیے مواد اپنے اکاؤنٹ سے شیئر کرتے ہیں۔

سربراہ انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ ڈیلیٹ کیے گئے اکاؤنٹس کے ذریعے فیس بک نے خبردار کیا ہے کہ یہ سوشل میڈیا صارفین کےلیے وارننگ ہے کہ وہ محتاط رہیں اور تحقیق کے بعد ہی کچھ شیئر کریں۔