تازہ ترین
  • بریکنگ :- شہبازگل کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں،قاسم سوری
  • بریکنگ :- یہ کتنےلوگوں کوپکڑیں گے ہرگھرسے عمران خان نکلے گا،قاسم سوری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:انہوں نے 1100ارب کی چوری معاف کرالی،قاسم سوری
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی میں پاک فوج پرتنقیدکرنے والےنظرنہیں آرہے،قاسم سوری
  • بریکنگ :- ان کاہرسطح پرمقابلہ کریں گے،رہنما تحریک انصاف قاسم سوری
  • بریکنگ :- شہبازگل کواغوا کیا گیا،کچھ پتا نہیں وہ کہاں ہیں ،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- شہبازگل کی گرفتاری پرقانونی چارہ جوئی کی جائے گی،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- عدلیہ اورپاک فوج سمیت تمام ادارے ہمارے اپنے ہیں،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم کی تاریخ ہےانہوں نےاداروں کیخلاف بیانات دیئے،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- 13اگست کولاہورمیں ملکی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ ہوگا،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- ملک بھرسے لوگ لاہورجلسے میں شرکت کریں گے،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- عمران خان جلسےمیں آئندہ کےلائحہ عمل کا اعلان کریں گے،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- اسلام آباد:امپورٹڈحکومت ہرضمنی الیکشن ہاررہی ہے،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- قوم کا مطالبہ ہے اسمبلیاں تحلیل کرکےنئےالیکشن کرائے جائیں،فیصل جاوید
  • بریکنگ :- قوم نے امپورٹڈ حکومت کومسترد کردیا ہے،فیصل جاوید

فیصل آباد : صحت کارڈ افتتاح کے باوجود مستحق افراد بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور

Published On 21 February,2022 10:30 am

فیصل آباد : (دنیا نیوز) حکومت صحت کارڈ کو انقلابی اقدام قرار دے رہی ہے، فیصل آباد میں اس کا باقاعدہ افتتاح بھی کردیا گیا اس کے باوجود صحت کارڈ پر علاج کے مستحق افراد بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔

حکومت نے فیصل آباد ڈویژن میں بھی صحت کارڈ کا اجراء تو کردیا لیکن غیرمناسب حکمت عملی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث شہری اس کے مکمل ثمرات سے محروم ہیں۔

صحت کارڈ پر ایک خاندان 10 لاکھ روپے تک سالانہ علاج کی سہولت حاصل کرنے کا اہل ہے۔ قواعد و ضوابط کے مطابق علاج صرف انڈور میں زیر علاج مریضوں کا ہی ہو گا لیکن فیصل آباد میں کارڈ کے اجراء سے قبل سرکاری ہسپتالوں میں ماڈل فارمیسیزقائم ہی نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت حاصل کرنے کے اہل مریض بھی بازار سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔

فیصل آباد کے 37 ہسپتالوں میں صحت کارڈ کی سہولت موجود ہے جہاں پر صحت کارڈ کاونٹرز بھی قائم کردئیے گئے ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں کے سینٹرل پرچیز کنٹریکٹ میں تاخیر کی وجہ سے ادویات کی انتہائی قلت ہے، ماڈل فارمیسیز بھی موجود نہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹرز مریضوں کے لواحقین کو اوپن مارکیٹ سے ادویات خریدنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب چیف ایگزیکٹو محکمہ صحت کہتے ہیں ہسپتال سے نہ ملنے والی ادویات اور ٹیسٹ ہیلتھ کارڈ پر ہی باہر سے کروائیں گے۔ حکومتی ایم پی اے لطیف نذیر کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ پر علاج کے باوجود مریضوں کو ادویات نہ ملنے کا معاملہ وہ حکام بالا کے سامنے اٹھائیں گے۔

شہریوں کا شکوہ ہے کہ صحت کارڈ پر علاج کی سہولت حاصل کرنے کا طریقہ کار بھی انتہائی پیچیدہ ہے اور دوسری طرف ادویات بھی باہر سے خریدیں گے تو صحت کارڈ کا کیا خاک فائدہ ہوگا۔