تازہ ترین
  • بریکنگ :- سانحہ مری ،متعلقہ محکموں کی غفلت ثابت
  • بریکنگ :- افسران واٹس ایپ پرچلتے رہے،تحقیقات میں انکشاف
  • بریکنگ :- افسران صورتحال کو سمجھ نہیں سکے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- افسران نےصورتحال کوسنجیدہ لیانہ کسی پلان پرعمل کیا ،رپورٹ
  • بریکنگ :- متعددافسران نے واٹس ایپ میسج تاخیر سے دیکھے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- کمشنر، ڈی سی ،اے سی نےغفلت کا مظاہرہ کیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سی پی او،سی ٹی اوذمہ داریاں پوری کرنےمیں ناکام رہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122کا مقامی آفس بھی کچھ نہ کرسکا
  • بریکنگ :- محکمہ ہائی وے بھی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سانحہ مری کی رپورٹ 27 صفحات پر مشتمل ہے
  • بریکنگ :- 4 والیم پرمشتمل افسران اورمقامی لوگوں کے بیانات لیے گئے
  • بریکنگ :- تحقیقاتی کمیٹی کی مری میں محکمہ موسمیات کادفترقائم کرنےکی سفارش
  • بریکنگ :- مری کا ہل اسٹیشن تجاوزات کی وجہ سے گلیوں میں تبدیل ہوگیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- غیر قانونی عمارتیں گرانےکی سفارش کی گئی ہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- مشینری موجود تھی لیکن آدھا عملہ غائب تھا، رپورٹ

پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے 6 ماہ کی مہلت

Last Updated On 19 October,2018 06:04 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) وفد نے پاکستان کو منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کے لئے مزید وقت دے دیا، مشتبہ لین دین روکنے کیلئے فریم ورک تیار کیا جائے گا۔

پاکستان اور فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس میں مذاکرات مکمل ہو گئے۔ ریئل سٹیٹ، تجارتی لین دین، غیر منافع بخش تنظیموں کا ریکارڈ رکھنے کیلئے فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے چھ ماہ کی مہلت دینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف وفد کی جانب سے کہا گیا کہ ریئل سٹیٹ کا بزنس پاکستان میں منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ ہے۔ دہشت گردی کی مالی معاونت کی رقوم بھی اس بزنس میں لگائی جاتی ہیں۔ غیر قانونی رقوم غیر منافع بخش تنظیموں، ٹرسٹ کی آڑ میں چھپائی اور مالیاتی اداروں میں رکھی جاتی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف وفد نے مشتبہ مالی لین دین کا ریکارڈ جمع کرنے کیلئے پاکستان کو مزید چھ ماہ دینے پر اتفاق کیا۔ پاکستان سے واپسی پر وفد اپنی سفارشات ایف اے ٹی ایف ہیڈ کوارٹرز کو پیش کرے گا۔

ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ آئندہ سال مارچ اپریل میں کرے گا۔