لاہور: )تجزیہ: سلمان غنی( مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں کور کمانڈرز کے اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ایک مؤثر اور جانبدارانہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس سے ان کی کشمیر کاز اور کشمیریوں کی جدوجہد سے کمٹمنٹ اور اس حوالے سے اپنے کردار کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان نے کبھی بھی جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو قانونی بنانے والے آرٹیکلز 370 اور 35 اے کو تسلیم نہیں کیا۔
دوسری جانب پاکستان کے منتخب ایوان اور منتخب و سیاسی لیڈر شپ کی جانب سے جو مضبوط مشترکہ لائحہ عمل مقصود تھا وہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ جس یکسوئی اور سنجیدگی کی ضرورت تھی اس کا فقدان تھا۔ شاید منتخب لیڈر شپ کو اس امر کا ادراک ہی نہیں کہ بھارت کتنی بڑی واردات کر چکا ہے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کسی طرح بھی سقوط ڈھاکہ سے کم نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج ملک بھر میں تمام سنجیدہ طبقات ایک دوسرے سے استفسار کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ اگر نریندر مودی جیتتا ہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کا امکان ہے، لیکن مسئلہ کشمیر اور خصوصاً کشمیر پر سٹیٹس کو کی جو صورتحال 1948ء سے جاری تھی، وہ نریندر مودی نے توڑ دی۔ لیکن ہم نوشتہ دیوار پڑھنے کو تیار نہیں یہ سب کچھ کیسے ہوا کیونکر ہوا ؟ اطلاعات تو یہ بھی آ رہی ہیں کہ نریندر مودی نے دو ماہ قبل امریکی صدر کو بتا دیا تھا کہ ہم کشمیر پر کیا کرنے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب وہی صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کرتے نظر آئے اور ہم اس پر خوشی سے شادیانے بجاتے رہے۔
گزشتہ ایک ہفتہ سے یہ خبریں مسلسل آ ر ہی تھی کہ بھارت کشمیر میں کیا کرنے جا رہا ہے۔ بڑی تعداد میں اضافی افواج مقبوضہ وادی میں بھجوا دی گئیں۔ ایک طرح کے ہنگامی حالات کا اعلان تھا جس کے پیچھے اصل طوفان چھپا بیٹھا تھا۔ یہاں آنے والے سیاحوں کو واپس جانے کا حکم دے دیا گیا تھا کرفیو پاس جاری ہو رہے تھے۔ اور ادھر ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ کہتے نظر آئے کہ ہمیں خطرہ تھا کہ بھارت ایسا کر سکتا ہے۔ یہاں سے حکومت کی بے خبری کا اندازا کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا چیخ و پکار کر رہا تھا کہ کشمیر میں نفسیاتی دباؤ عروج پر ہے۔ بڑے پیمانے پر لوگ راشن کا سامان جمع کر رہے ہیں۔ خوف و ہراس عروج پر تھا اور ہم ثالثی کی پیشکش کے نشے میں مدہوش وزیراعظم عمران خان کی کامیاب امریکہ یاترا کے گن گاتے نظر آ رہے تھے۔
لہٰذا اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد کیا کشمیریوں کی آزادی کی تحریک دب جائے گی۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جو کر چکا ہے، جو کرنے جا رہا ہے، وہ اب ڈھکا چھپا نہیں۔ نریندر مودی نے وہی کیا جو اس کی فطرت کا حصہ اور اس کی جماعت کا منشور تھا۔ افسوس ہم اس سے بہتری کی توقع لگائے رہے اور بچھو اور کچھوے کی کہانی بھلا بیٹھے۔ اب بھارت نے جو کرنا تھا کر چکا ہم نے جواباً کیا کرنا ہے ابھی ہم کلیئر نہیں۔ ابھی ہم ایوان کے اندر اسی نمبرز گیم میں الجھے ہوئے ہیں۔ مسلح افواج نے اپنا اعلان کر دیا ہے اور واضح کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور کس حد تک ساتھ ہیں یہ بھی بتا دیا ہے اور ان کا یہ اعلان منتخب سیاسی قیادت کیلئے بھی واضح پیغام ہے اور گیند ان کی کورٹ میں ہے کہ اب معاملہ محض قراردادوں اور مذمت کے بیانات سے آگے نکل کر جارحانہ اور مؤثر سفارتکاری تک پہنچنا چاہئے۔
پاکستان کے پالیسی ساز اداروں اور سفارتکاروں کو سوچنا ہے کہ ایک نیوکلیئر طاقت کے حامل ملک ایک زبردست فوجی طاقت رکھنے والی قوم اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی کی عالمی جنگ میں سرخرو ہونیوالوں کا مقدمہ کشمیر پر کوئی کیوں نہیں سنتا ؟ اگر ہم نے اس پر غور کر لیا، اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک لیا اور مستقبل کا سفر درست سمت میں شروع کر لیا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ دنیا ہماری بات نہ سنے۔ اسلام آباد مت بھولے کہ صرف واشنگٹن ہی اس مسئلے کا حل رکھتا ہے۔ اس تنازع کیلئے چین اور روس بھی بہت اہم ہیں۔ پاکستان اب او آئی سی کی حمایت کو جنرل اسمبلی میں ٹیسٹ کرے اور سلامتی کونسل میں معاملات کیلئے خصوصی لابنگ کرے کیونکہ 27 فروری کے واقعے کے بعد عالمی جوہری قوتیں پاکستان کا بھارت کو زبردست جواب اپنے ذہن میں رکھتی ہیں۔ قراردادوں اور مذمتی بیانات سے ہٹ کر کرنے کے کام یہی ہیں۔