تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی زیرصدارت ماڈل ٹاؤن پارٹی سیکرٹریٹ میں اجلاس
  • بریکنگ :- لاہور:اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اورمریم نواز کی شرکت
  • بریکنگ :- سعدرفیق،ایازصادق،علیم خان،عطاتارڑسمیت دیگررہنماؤں کی شرکت
  • بریکنگ :- لاہور:اجلاس میں ضمنی انتخابات سےمتعلق لائحہ عمل پرمشاورت
  • بریکنگ :- لیگی رہنماؤں کوضمنی انتخابات سےمتعلق اہم ٹاسک سونپ دیئےگئے
  • بریکنگ :- مریم نوازکولاہورسمیت پنجاب کےحلقوں میں انتخابی مہم چلانےکی ہدایت
  • بریکنگ :- سعدرفیق،ایازصادق،علیم خان کولاہورکےچاروں حلقوں کی نگرانی کی ہدایت
  • بریکنگ :- لاہور: حمزہ شہبازانتخابی مہم کی صرف نگرانی کریں گے، پارٹی ذرائع
  • بریکنگ :- حمزہ شہبازضابطہ اخلاق کےمطابق انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیں گے،ذرائع
  • بریکنگ :- حمزہ شہبازکوتمام حلقوں میں پارٹی کےناراض اراکین سےرابطوں کی ہدایت

خطے میں بد امنی کیلئے بھارتی کوششیں عالمی امن کیلئے بھی خطرناک

Last Updated On 21 October,2019 09:01 am

لاہور: (تجزیہ: سلمان غنی) مقبوضہ کشمیر میں سفاک کرفیو کے تسلسل کے باعث پیدا شدہ صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کا منظم سلسلہ شروع ہے اور کنٹرول لائن کو گرم کر کے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اصل مسئلہ کشمیر نہیں کنٹرول لائن پر پیدا شدہ صورتحال ہے۔

گزشتہ روز بھارت نے ایل او سی پر جورا شاہ کوٹ، نوسیری اور جوڑا سیکٹرز میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، کنٹرول لائن پر پیدا شدہ صورتحال اور خصوصاً بھارت کے جارحانہ عزائم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی نیت درست نہیں اور وہ کنٹرول لائن پر غیر معمولی صورتحال طاری کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ آخر بھارت کے مقاصد کیا ہیں ؟ بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات کی ٹائمنگ کی کیا اہمیت ہے ؟ کنٹرول لائن پر غیر معمولی فائرنگ کا عمل صورتحال کو کہاں لے جائے گا۔ بھارتی ہائی کمشنر کو خارجہ آفس بلانے اور بار بار احتجاج ریکارڈ کروانے کے اثرات کیونکر ظاہر نہیں ہو رہے اور آخر کیا وجوہات ہیں کہ دو نیوکلیئر پاورز کے درمیان تناؤکی صورتحال پر عالمی برادری اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔

جہاں تک بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی مکمل خلاف ورزیوں کا تعلق ہے تو دراصل یہ وہ بوکھلاہٹ ہے جو بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کے باعث طاری ہے۔ مسلسل 77 ویں روز کرفیو کے عمل کے باعث ابھی تک بھارتی سرکار کو یہ یقین اور اعتماد حاصل نہیں ہو رہا کہ کرفیو میں نرمی اور خاتمہ کے باعث کشمیریوں کا رد عمل سامنے نہیں آئے گا۔ باوجود مقبوضہ وادی پر فوج گردی کے ابھی تک بھارت یہاں اپنا تسلط قائم نہیں کر پایا اور مسلسل کرفیو کے باعث پیدا شدہ صورتحال نے اب یہاں انسانی بحران کی صورتحال طاری کر دی ہے، گھروں کے اندر فاقوں کی اطلاعات عام ہیں، روز مرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس نے بھارت سرکار کو پریشان کر رکھا ہے اور اب مقبوضہ وادی کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن کو گرم کیا جا رہا ہے۔

ایل او سی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کے مسلسل احتجاج کا نوٹس نہیں لیا جا رہا اور خصوصاً اس محاذ آرائی اور تناؤ پر عالمی برادری کی خاموشی بھی لمحہ فکریہ ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارت کی خلاف ورزیوں کا عمل معاملات کو جنگ کی جانب نہ لے جائے۔ پاکستانی فوج بھارت جیسے مکار اور عیار دشمن کے مذموم عزائم اور ہتھکنڈوں سے نمٹنا چاہتی ہے اور اپنی سر زمین کے چپے چپے کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے۔ کنٹرول لائن پر ہونے والے واقعات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارت اپنے کسی طے شدہ منصوبہ پر کاربند ہے اور اس حوالے سے بھارتی دفاع راج ناتھ کے بیانات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، وہ آزاد کشمیر پر حملہ اور پاکستان کو مزا چکھانے کی باتیں کرتے رہے ہیں لہٰذا کنٹرول لائن کے واقعات اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی صورتحال خطرے سے خالی نہیں اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا نظر آ رہا ہے کیونکہ مذکورہ واقعات کے بعد بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے اپنے فوجی سربراہ سے رابطہ کر کے انہیں خصوصی ہدایات جاری کی ہیں لہٰذا پاکستان کو اپنی آزادی اور خود مختاری برقرار رکھنے کیلئے بھارت کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ اس کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاتوں کا بھوت باتوں سے ماننے والا نہیں، اس پر اپنی طاقت ، قوت اور خصوصاً وزیراعظم نریندر مودی پر اپنے مینڈیٹ کا نشہ سوار ہے تاہم اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان کے پاس نشہ اتارنے کا علاج موجود ہے اور اس کے ساتھ وہ جذبہ اور ولولہ بھی ہے جو اپنے سے دس گنا بڑے ملک اور فوج سے نبرد آزما ہونے اور اسے ان کے انجام پر پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔

بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اور اس کی فوج کی اہلیت، صلاحیت کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سمیت بہت سے عوامل ایسے ہیں جس کی وجہ سے بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی ہے وہ اس کا بدلہ پاکستان سے چکانا چاہتا ہے لیکن بدلہ لینے کا عمل صرف خواہشات پر مبنی نہیں ہوتا اس کیلئے بڑا حوصلہ بھی درکار ہے۔ اگر بھارت اور خصوصاً اس کی افواج وہ حوصلہ نہیں رکھتیں اور دوسری جانب پاکستان میں اندرونی طور پر لاکھ اختلافات ہوں گے لیکن بھارت جیسے دشمن سے نمٹنے اور اس کے مذموم عزائم کے جواب کیلئے جہاں پاکستانی فوج مثالی جذبہ اور ولولہ سے سرشار ہے وہاں پاکستانی قوم بھی اپنی بہادر مسلح افواج کی پشت پر ہے۔ 1998 میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تھے اس وقت سے دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی توازن قائم ہے، بھارت جیسے ملک کے جارحانہ عزائم کے جواب میں ہماری افواج بھرپور اہلیت اور صلاحیت کی مالک ہیں اور اگر بھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اب جنگ پاک سر زمین پر نہیں بھارتی سر زمین پر ہوگی البتہ دنیا کو ضرور اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ دو نیوکلیئر پاورز کے درمیان محاذ آرائی اور تناؤہر حوالے سے خطرناک ہے اور دنیا کو بھارت کا ہاتھ پکڑنا ہوگا، اسے باور کرانا ہوگا کہ اسے جس چیز پر ناز ہے پاکستان اس میں کسی طور پر پیچھے نہیں، وہ اپنی اشتعال انگیزیوں سے باز رہے، وہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کے عمل پر نظر ثانی کرے ورنہ اسے لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، اس کا یہ مذموم اور سفاک عمل خطہ کو جنگ کی جانب لے جائے گا اور علاقائی امن غارت کرنے کی بھارتی کوششیں عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہو سکتی ہیں۔