کوئٹہ دہشتگردی: پاکستان کی کامیابیاں کسے ہضم نہ ہوئیں؟

کوئٹہ دہشتگردی: پاکستان کی کامیابیاں کسے ہضم نہ ہوئیں؟

اس صورتحال میں کوئٹہ میں وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے واقعات امن کی طرف بڑھتے حالات میں ایک کنکر کی طرح ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں کچھ سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ یہ ٹائمنگ کیسی ہے ؟ پاکستان کو حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں کسے ہضم نہیں ہو رہیں ؟ بلوچستان کے اندر بدامنی کا بیج کون بو رہا ہے ؟ یا صرف بلوچ قوم کے سپوت ہی کیوں اس دہشتگردی کا ایندھن بن رہے ہیں ؟ دہشت گردی کے خلاف ہمارا علاقائی اور عالمی کردار کیا ہے ؟۔

اس وقت پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا بیٹھا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے افغان تنازع کو لے کر پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ افغان مہاجرین کیلئے جس طرح پاکستان نے اپنے دل اور دروازے کھولے ہیں اس کی ایک دنیا معترف ہے۔ دوسری جانب افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار بہت فیصلہ کن بن چکا ہے۔ ترک صدر طیب اردوان بھی پاکستان آئے اور جس طرح انہوں نے کشمیر پر اپنی پوزیشن واضح کی وہ نئی دہلی کیلئے صف ماتم بچھنے کے مترادف ہے۔ پاکستان اپنا کردار بڑھاتے ہوئے ایک نئے اسلامی معاشی اور فوجی بلاک کیلئے بھی سرگرم عمل ہے۔ ظاہر ہے یہ کامیابیاں بھارت اور بھارت نواز افغان ایجنسیوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں۔ دوسری طرف بلوچستان کا امن چین پاکستان معاشی منصوبوں (سی پیک) کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ معاشی راہداری کئی حوالوں سے نئی دہلی اور واشنگٹن کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔

پاکستان دشمن عناصر اسے سبوتاژ کرنے کیلئے کلبھوشن یادیو جیسے نیٹ ورک بناتے رہتے ہیں۔ یہ تمام صورتحال ہم سے دوبارہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو مزید مضبوط اور مربوط کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ پاکستان پہلے بھی بحیثیت قوم اس جنگ میں سرخرو ٹھہرا ہے اور آئندہ بھی قومی یکجہتی اور یکسوئی ہی ہمیں امن کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔