تازہ ترین
  • بریکنگ :- شہبازگل کوقانون کے مطابق گرفتارکیا گیا،رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کوکل عدالت میں پیش کریں گے،رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کیخلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 22/191 درج کیا گیا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کےخلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ،رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- مقدمےمیں دفعات 505،120بی،153اے،124اے،131 شامل،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- سازش میں ملوث کرداروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- عمران خان کہہ رہے ہیں کہ شہبازگل کواغواکیاگیاہے،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- اغوا نہیں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے،وزیرداخلہ راناثنا اللہ
  • بریکنگ :- میں چاہتاتوشہبازگل کی گاڑی سے ہیروئن برآمدہوسکتی تھی،راناثنا اللہ
  • بریکنگ :- ہمارا ایسی شرمناک حرکتوں کاکوئی ارادہ نہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- عمران خان کویقین دلاتاہوں قانون کےمطابق سلوک ہوگا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شیخ رشید چلاہواکارتوس ،انہیں گرفتارکرنےکی ضرورت نہیں،رانا ثنا اللہ
  • بریکنگ :- ڈیوٹی فوادچودھری کی لگی تھی لیکن اس نےشہبازگل کوآگےکردیا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل کےپیچھےکون سےکردارتھےان کی تحقیقات ہوں گی،راناثنااللہ

کوئٹہ دہشتگردی: پاکستان کی کامیابیاں کسے ہضم نہ ہوئیں؟

Last Updated On 18 February,2020 09:02 am

لاہور: (تجزیہ:سلمان غنی) کوئٹہ میں دہشت گردی کے ایک اور بے رحم واقعے نے پورے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ اہل بلوچستان اس لیے بھی ہماری توجہ اور ہمدردی کے اولین مستحق ہیں کہ اس سر زمین کو پاکستان مخالف قوتوں نے مسلسل پراکسی وار کا میدان بنا رکھا ہے۔ بلوچ قوم نے اس دہشت گردی کا مقابلہ بھی کیا ہے اور اپنے خون کے نذرانے بھی دئیے ہیں۔ اس وقت ملک میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے عفریت کا زور توڑا جا چکا ہے۔ پاکستانی قوم سمیت دنیا بھر کی افواج اور سفارتکار ہر فورم پر بلا دھڑک اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں اور افواج پاکستان کی قربانیوں اور پاکستانی قوم کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہیں۔

اس صورتحال میں کوئٹہ میں وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے واقعات امن کی طرف بڑھتے حالات میں ایک کنکر کی طرح ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں کچھ سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ یہ ٹائمنگ کیسی ہے ؟ پاکستان کو حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں کسے ہضم نہیں ہو رہیں ؟ بلوچستان کے اندر بدامنی کا بیج کون بو رہا ہے ؟ یا صرف بلوچ قوم کے سپوت ہی کیوں اس دہشتگردی کا ایندھن بن رہے ہیں ؟ دہشت گردی کے خلاف ہمارا علاقائی اور عالمی کردار کیا ہے ؟۔

اس وقت پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا بیٹھا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے افغان تنازع کو لے کر پاکستان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ افغان مہاجرین کیلئے جس طرح پاکستان نے اپنے دل اور دروازے کھولے ہیں اس کی ایک دنیا معترف ہے۔ دوسری جانب افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار بہت فیصلہ کن بن چکا ہے۔ ترک صدر طیب اردوان بھی پاکستان آئے اور جس طرح انہوں نے کشمیر پر اپنی پوزیشن واضح کی وہ نئی دہلی کیلئے صف ماتم بچھنے کے مترادف ہے۔ پاکستان اپنا کردار بڑھاتے ہوئے ایک نئے اسلامی معاشی اور فوجی بلاک کیلئے بھی سرگرم عمل ہے۔ ظاہر ہے یہ کامیابیاں بھارت اور بھارت نواز افغان ایجنسیوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں۔ دوسری طرف بلوچستان کا امن چین پاکستان معاشی منصوبوں (سی پیک) کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ معاشی راہداری کئی حوالوں سے نئی دہلی اور واشنگٹن کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔

پاکستان دشمن عناصر اسے سبوتاژ کرنے کیلئے کلبھوشن یادیو جیسے نیٹ ورک بناتے رہتے ہیں۔ یہ تمام صورتحال ہم سے دوبارہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو مزید مضبوط اور مربوط کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔ پاکستان پہلے بھی بحیثیت قوم اس جنگ میں سرخرو ٹھہرا ہے اور آئندہ بھی قومی یکجہتی اور یکسوئی ہی ہمیں امن کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔