تازہ ترین
  • بریکنگ :- فیٹف نےحالیہ اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کاجائزہ لیا ،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف نےپاکستان کی نمایاں پیشرفت کوسراہا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان نے2021ایکشن پلان کے7میں سے 4نکات پرعملدرآمد کرلیا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان نےمقررہ مدت سےپہلےخاطرخواہ پیشرفت کی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف پاکستان کااگلاریویوفروری2022 میں کرےگا،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدکی سربراہی وزیرتوانائی محمدحماداظہرنےکی،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- پاکستان دونوں ایکشن پلانزکےاہداف کےحصول کیلئےپرعزم ہے،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کاتمام ایکشن پلانزپرپاکستان کے عملدرآمدپراطمینان کااظہار،وزارت خزانہ
  • بریکنگ :- فیٹف کوایکشن پلانزکےبارےمیں جامع رپورٹ پیش کردی گئی،وزارت خزانہ

پشاور اور کوئٹہ میں سمارٹ‌ لاک ڈاؤن کے باوجود ایس او پیز کی خلاف ورزی جاری

Last Updated On 17 May,2020 03:15 pm

پشاور: (دنیا نیوز) پشاور کے مختلف علاقوں میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو کاروبار بند کرنے کے احکامات کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، دکانداروں اور خریداروں نے غیر سنجیدہ رویہ اختیار کر رکھا ہے، کورونا وائرس سے بچائو کے نہ تو احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں اور نہ ہی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں سمارٹ لاک ڈائون کے نویں روز بھی بازاروں میں خریداروں کا رش ہے۔

شہر کے مختلف بازاروں میں لاک ڈائون سے مستثنیٰ میڈیسن، ادویات، روٹی، جنرل سٹور، سبزیوں، آٹا اور دیگر خوراک کی دکانوں کے تاجروں نے بھی حفاظتی اقدامات نہیں کیے، شہری کہتے ہیں حفاظتی اقدامات نہ کرنے والے افراد سینکڑوں افراد کی زندگیاں دائو پر لگا رہے ہیں۔

تاجروں سمیت خریداروں کے رویوں میں بھی تبدیلی نہیں آرہی، شہر کی غلہ اور سبزی منڈیوں میں خریداری کے دوران کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے، بیشتر شہریوں نے حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔

خیبر پختونخوا میں پیر کے روز سے لاک ڈائون میں نرمی کے تحت دوبارہ کاروباری سرگرمیاں شروع ہوں گی جبکہ ٹرانسپورٹ بھی بحال کی جائے گی۔
کورونا وائرس سے بچائو کے لیے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اُدھر کوئٹہ میں سمارٹ لاک ڈائون کے نویں روز بھی بازاروں میں خریداروں کا رش ہے، بازاروں میں حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز کی پابندی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ماسک، ہینڈ سینی ٹائیزر وغیرہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ بھی ایس اوپیز پرعمل کرنے کے لئے میدان میں نہیں ہے۔