تازہ ترین
  • بریکنگ :- آج میڈیا کے سامنے وزیر بلدیات نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہم اس معاہدے پر عمل بھی کروائیں گے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- مئیر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: مئیر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان،کارکنان گھروں کو روانہ
  • بریکنگ :- پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میئر کراچی کو بااختیار بنانےپر متفق
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ نے ساڑھے تین کروڑ عوام ہی نہیں پورے ملک کو حیران کردیا،حافظ نعیم
  • بریکنگ :- ہم استقامت کے ساتھ 29 دن دھرنے پر بیٹھے رہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:2021 کا ترمیمی بل اب ختم ہو جائےگا،حافظ نعیم الرحمان

فیٹف بلز ملکی سلامتی کیلئے ضروری ہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی

Last Updated On 10 August,2020 09:41 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فناشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے بلز کو ملکی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مفاد میں حکومت کی مدد کرنا پڑتی ہے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ‘’آن دی فرنٹ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے مختلف سوالات کے جواب دئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لایا گیا نیب آرڈیننس ان کے اپنے لوگوں کے لیے این آر او تھا۔ ہم نے کہا کہ نیب کا قانون پہلے ہی کالا، اسے مزید کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے نیب قوانین کی ہر شق پر بات کی تھی۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اب صحتمند ہو چکے اور پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ مریم نواز کا اپنا ایک رول ہے، وہ سیاست میں رہے گا۔ مریم نواز پارلیمان کا حصہ نہیں ہیںِ، انہوں نے خود کہا تھا کہ جب بھی ضرورت پڑی تو عوام کے سامنے آئیں گی۔

انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا مینڈیٹ جعلی تھا، وہ ناکام ہو چکے، عوام ہمیں کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو جلد از جلد فارغ کریں تاہم ہم کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ کسی غیر آئینی کام میں ساتھ نہیں دیں گے، یہ ہمارا موقف ہے۔

مسئلہ کشمیر بارے ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کو متنازع نہیں بنانا چاہتے، اس پر کوئی اختلافی بیان نہیں دیں گے، ریاست نے فیصلہ کر لیا تو سپورٹ کریں گے۔ تاہم انہوں نے انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس نے کشمیر معاملے کو متنازع کر دیا ہے۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ این آر او ہوتا کیا ہے یہ وزیراعظم بتا دیں؟ ایسی باتیں تو معمولی سیاست دان بھی نہیں کرتا۔ اگر ایسی باتیں وزیراعظم کریں گے تو ذہنی حالت کو دیکھنا چاہیے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمان میں عوامی مسائل اجاگر کرتی ہے لیکن یہ پہلی حکومت ہے جو پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتی۔ ہمیں مجبوراً پارلیمنٹ کے بجائے باہر آ کر پریس کانفرنس کرنا پڑتی ہے۔