تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب

کورونا کی دوسری لہر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، عوام احتیاط کریں: اسدعمر

Published On 24 November,2020 06:03 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کورونا کی شدت کا احساس دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے رویے سے نہیں لگ رہا کہ انھیں کسی بات کی فکر ہے، کورونا کی دوسری لہر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد میں معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے پاکستان میں وبائی مرض کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور مستقبل میں درپیش خطرے پر تفصیلی بات کی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت کیلئے سکولز بند کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ 11 جنوری 2021ء سے حالات دیکھ کر سکولز کھلنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسٹورنٹس کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک میں بھی کورونا کی دوسری لہر کی شدت زیادہ ہے تاہم لوگوں کے رویوں سے لگ رہا کہ انہیں کورونا کی شدت کا احساس ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں بڑے بڑے اجتماعات ہو رہے ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم نے شروع میں لاک ڈاؤن کیا تو غریب لوگ متاثر ہوئے تھے۔ ایسے حالات نہیں چاہتے جس سے روزگار اور زندگیوں کو خطرہ ہو۔ حکومت نے احساس پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کورونا سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل بلایا ہے۔ اجلاس میں سیاسی قائدین کو مدعو کیا گیا ہے۔ سیاستدانوں کو موجودہ صورتحال میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کی دوسری لہر: سندھ میں آج سے کاروبار 6 بجے تک بند کرنے کے احکامات

خیال رہے کہ کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کرنے لگی ہے۔ صوبہ سندھ میں آج سے کاروبار 6 بجے تک بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ کاروبار کے اوقات کار صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک ہونگے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق تمام تجارتی مراکز جمعہ اور اتوار کو مکمل بند رہیں گے، جمعہ اور اتوار صرف اشیا ضروریہ کی دکانیں کھلیں گی۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے نئی پابندیاں 31 جنوری 2021 تک لاگو رہیں گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری، نجی دفاتر، پبلک مقامات پر ماسک پہنا لازمی قرار، جرمانہ بھی ہوگا، سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد کم سٹاف رکھا جائے، ‏بند جگہوں پر شادی کی تقریبات پر پابندی جبکہ صرف کھلے مقامات پر شادی ہوگی، شادی میں 200 مہمانوں کی اجازت ہوگی، تقریب 9 بجے ختم کرنا ہوگی۔

محکمہ داخلہ سندھ نے شادی میں بوفے سروس پر بھی پابندی عائد کر دی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ کھانا پیک ڈبوں میں مہمانوں میں تقسیم کرنے کی اجازت ہوگی، مزارات، انڈور سینما، تھیٹر، جم، بند رہیں گے، ریسٹورنٹس کے اندر کھانے پر پابندی، کھلے مقام پر رات 10 بجے تک ڈائننگ کی اجازت ہوگی، ٹیک آوے اور ہوم ڈیلیوری بھی رات 10 بجے تک ہوگی۔

دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق کورونا وائرس سے 48 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 7 ہزار 744 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 79 ہزار 883 ہوگئی۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 954 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 15 ہزار 138، سندھ میں ایک لاکھ 64 ہزار 651، خیبر پختونخوا میں 44 ہزار 932، بلوچستان میں 16 ہزار 846، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 558، اسلام آباد میں 27 ہزار 555 جبکہ آزاد کشمیر میں 6 ہزار 203 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک بھر میں اب تک 52 لاکھ 56 ہزار 120 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 39 ہزار 165 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 3 لاکھ 31 ہزار 760 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار 751 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 48 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 7 ہزار 744 ہوگئی۔ پنجاب میں 2 ہزار 879، سندھ میں 2 ہزار 845، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 330، اسلام آباد میں 285، بلوچستان میں 163، گلگت بلتستان میں 95 اور آزاد کشمیر میں 147 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔