تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:پی ٹی آئی رہنماشہبازگل کوعدالت پیش کردیاگیا
  • بریکنگ :- شہبازگل پراداروں کیخلاف بیان،بغاوت پراکسانےکامقدمہ درج ہے
  • بریکنگ :- پولیس کی جانب سےشہبازگل کےمزیدجسمانی ریمانڈ کی استدعا
  • بریکنگ :- عدالت نےلیگل ٹیم کوشہبازگل سےملاقات کی اجازت دےدی
  • بریکنگ :- اسلام آباد:لیگل ٹیم کی شہبازگل سےکمرہ عدالت میں ملاقات

جاپان ... جہاں شادی کے لئے فرصت نہیں

Published On 06 February,2021 11:39 pm

جاپان میں شادی ایک مسئلہ ہے۔ جاپانی شادی دیر سے کرتے ہیں یا کرتے ہی نہیں۔زیادہ تر شادیاں 30 سال کی عمر کے بعد ہوتی ہیں۔ شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنے کے بعد دیر تک رابطے میں رہتے ہیں تاکہ ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو جائے۔شادی کے لیے خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ زیورات وغیرہ کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا جاتا البتہ دلہن کے خاص لباس پر لاکھوں ین خرچ کیے جاتے ہیں۔ بہت زیادہ پڑھے لکھے افراد اور کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار ان اتنے مصروف رہتے ہیں کہ شادی کے لیے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔1970سے شادیوں میں کمی اور طلاقوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ایک سروے کے مطابق بالغ افرادکی 59فیصد تعدادشادی شدہ ہے۔

اب جاپانی پرانی روایات کی طرف لوٹ رہے ہیں۔25 سال پہلے جاپان میں کیمونو پہنے شاذو نادر ہی کوئی عورت نظر آتی تھی۔ کیوٹو اور نارا کے مضافاتی علاقوں میں بڑی عمر کی چند خواتین روایتی جاپانی لباس میں نظر آتی تھیں لیکن اب سڑکوں، شاپنگ مالز اور دفاتر میں کئی لڑکیاں کیمونو میں نظر آتی ہیں۔ وہاں شادی کی تقاریب میں منفرد انداز اپنائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر شادیاں شنتو، عیسائی یا بدھ مت رسومات کے مطابق انجام پاتی ہیں۔ وہاں اکثر لوگ مذہب کو نہیں مانتے ایسے لوگ شادیاں اپنے انداز میں کرتے ہیں۔ جاپانی عیسائی نہ بھی ہوں تو وہ گرجا میں دلہا کو سفید گائون اور دلہن کو سفید لباس پہنوا کر شادیاں کرتے ہیں۔ جیسے غیر عیسائی جاپانی بھی کرسمس دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ بڑے ہوٹلوں نے اپنے ہاں شادی ہال کے اندر یا باہر خانقاہ بنائی ہوتی ہے جہاں شادی کی مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر جاپانی شادیوں میں مندرجہ ذیل رسومات/ روایات کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے:

-1شادی سے پہلے منگنی کی تقریب ہوتی ہے جس میں دلہا دلہن کے خاندان آپس میں ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے تعارف کے بعد تحائف کا تبادلہ اور نئے جوڑے کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔

-2شنتو مذہب کے لوگ زیادہ تر شنتو مذہبی روایات کے مطابق کرتے ہیں اور یہ زیادہ تر کسی شنتو عبادت گاہ میں ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں اب شادی ہالوں کے ساتھ شنتو مرکز بھی بنا دیئے گئے ہیں جہاں شنتو مذہبی راہب شادی کی رسومات ادا کرتا ہے۔

-3دلہا دلہن کے لیے حیثیت کے مطابق زرق برق کیمونو لباس تیار کروایا جاتا ہے۔ زیادہ تر دولہے کالے رنگ کا کیمونو پہنتے ہیں۔

-4دولہا اور دلہن کو بد روحوں اور برے مقدر سے محفوظ رکھنے کے لیے تین کپ پیش کیے جاتے ہیں جس میں وہ ایک ایک گھونٹ لیتے ہیں۔ ان کے بعد دونوں والدین ایک ایک گھونٹ پیتے ہیں اور اس کے بعد دوسرے قریبی عزیز اور دوست۔تمام مہمان ایک کپ سے تین تین دفعہ پیتے ہیں۔ تینوں کپوں میں سے تین گھونٹ لینے میں ایک حکمت ہے۔ پہلے تین گھونٹ دونوں خاندانوں میں ایک مضبوط بندھن کے لیے ہیں۔ دوسرے تین گھونٹ نفرت، بغض اور حسد کے جذبات دور کرنے اور آخری تین گھونٹ، محبت، پیار اور رشتے میں پختگی اور اچھی قسمت کے لیے ہیں۔3 3 3=9 کا ہندسہ جاپان میں خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

-5شنتو سٹائل کی شادی میں دلہن سفید کیمونو لباس پہنتی ہے۔ سفید کے علاوہ پھولدار کیمونو بھی پہننا جاتا ہے۔ دلہن بالوں کا جوڑا بناتی ہے۔ دلہن کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا خوبصورت پرس ہوتا ہے جیسے Habeseko کہتے ہیں۔ اس کی بیلٹ میں ایک چھوٹی سی تلوار اور پنکھا لگا ہوتا ہے جو دلہا دلہن کے اچھے مستقبل کی عکاسی کرتا ہے۔

-6اگر آپ کسی جاپانی شادی میں مہمانوں کی حیثیت سے جا رہے ہیں تو لازمی ہے کہ آپ کوئی گفٹ یا کیش لے کر جائیں۔ شادی ہال میں داخل ہوتے وقت آپ گیسٹ بک پر دستخط کرنے سے پہلے گفٹ یا کیش والا لفافہ پیش کرتے ہیں۔ جس پر مہمان کا نام لکھا ہوتا ہے اور دلہا دلہن کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار ہوتا ہے۔

7دلہا اور دلہن Stage پر بیٹھتے ہیں اور ان کے قریبی عزیز سٹیج پر آ کر دونوں کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہیں۔ دلہن کی سہیلیاں شادی کے گیت بھی گاتی ہیں۔

-8زیادہ تر شادیاں شام کو ہوتی ہیں۔   سوشی‘‘ شادی کے کھانے میں ضرور شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ پران، لال چاول اور دوسری سی فوڈز کی ڈشیں بھی کھانے کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔

-9شادی کے بعد مہمانوں میں چھوٹے گفٹ پیکس تقسیم کیے جاتے ہیں جن میں چاکلیٹ، مٹھائی اور سوونیئرز وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

-10کچھ لوگ شادی کا جوڑا کرایے پر لے کر گزارا کر لیتے ہیں اس سے بچائی گئی رقم گھر بنانے پر خرچ کرتے ہیں۔

تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ