تازہ ترین
  • بریکنگ :- دوسرےہفتےسےاشیاکی قیمتوں میں مسلسل کمی آرہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہرچیزپرسبسڈی نہیں دی جاسکتی ،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- راشن پروگرام کےتحت آٹےپر30فیصدسبسڈی جنوری سےشروع ہوگی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- 31ہزارسےکم آمدن والےطبقےکوآٹےپرسبسڈی دیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- 2کروڑلوگوں کو2018کی نسبت کم ریٹ پرآٹاملےگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہماری نشاندہی کےبعدآٹےکی قیمت مستحکم ہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی،حیدرآبادکےعلاوہ پورےملک میں 20کلوآٹا 1100روپےکاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی میں 20 کلوآٹےکاتھیلا1456روپےکاہے ،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حیدرآبادمیں 20 کلوآٹا1316روپےکاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کوئٹہ میں 20کلوآٹےکاتھیلا 1400روپےکامل رہاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی اوراسلام آباد کےسواپورےملک میں چینی 90 روپےکی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عدالت کی اجازت سےراناشمیم بیرون ملک جاسکتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں اشیاکی قیمتوں کاتقابلی جائزہ پیش کیاگیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- کراچی اوراسلام آبادمیں چینی 97روپےمیں مل رہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آنےوالے دنوں میں چینی کی قیمت 85روپےتک آجائےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کامعاملہ عدالت میں ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کوملک سےباہرجانےکیلئےعدالت سےاجازت چاہیے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- راناشمیم کیس میں قانونی کارروائی کی ضرورت پڑی توکریں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب کابیان سیاق وسباق سےہٹ کرپیش کیا گیا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری سروربات کررہےتھےکہ آئی ایم ایف کیوں جانا پڑتاہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری سرورنے کہا آئی ایم ایف جانےپرپابندیاں لگ جاتی ہیں،فواد چودھری

سوات میں ایک بار پھر زلزلہ، در ودیوار ہل گئے، لوگوں میں خوف پھیل گیا

Published On 17 February,2021 10:56 pm

پشاور: (دنیا نیوز) خیبر پختونخوا کے علاقے سوات اور گردونواح میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت چار اعشاریہ سات ریکارڈ کی گئی ہے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق حالیہ آنے والے زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش تھا۔

یہ بھی پڑھیں : چھ اعشاریہ چار شدت کا زلزلہ، پورا ملک ہل گیا، لوگ خوفزدہ

خیال رہے کہ دو دن قبل بھی سوات اور اس کے ملحقہ علاقوں میں زلزلہ آیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان اور انڈیا سمیت دیگر ممالک میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔ چھ اعشاریہ چار شدت کے اس زلزلے نے در ودیوار ہلا کر رکھ دئیے تھے۔

زلزلے کی شدت 6.4، مرکز تاجکستان کا علاقہ اور گہرائی 80 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ بھارت، افغانستان، چین اور دیگر ممالک میں بھی جھٹکے محسوس کئے گئے تھے۔

زلزلے کیسے اور کیوں آتے ہیں؟

زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

کشمیر اور گلگت بلتستان انڈین پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔