تازہ ترین
  • بریکنگ :- ایف اےٹی ایف کاپیرس میں اجلاس
  • بریکنگ :- پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہوگا،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان گرےلسٹ میں رہےگا،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان نےنئےایکشن پلان پربہترعملدرآمدکیا،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان نے 27میں سے 26 اہداف پورےکیے،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- پاکستان نےایشیاپیسفک گروپ کے 34میں سے 30اہداف پرعمل کیا،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- پاکستان میں مانیٹرنگ کانظام بہترہواہے،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- پاکستان کواینٹی منی لانڈرنگ قوانین پرعملدرآمدمزیدبہتربناناہوگا،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئےمشترکہ کوششیں کررہےہیں،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- منی لانڈرنگ کی روک تھام میں پنڈوراپیپرزنےبھی معاونت کی،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- آف شورکمپنیوں میں سرمایہ کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- آف شورکمپنیوں میں منی لانڈرنگ کےسرمائےکاجائزہ لیں گے،مارکس پلیئر
  • بریکنگ :- مالی،اردن اورترکی نےمانیٹرنگ نظام بہترکیاہے،صدرایف اےٹی ایف
  • بریکنگ :- ترکی کومنی لانڈرنگ کیخلاف قوانین پرعملدرآمدبہترکرناہوگا،مارکس پلیئر

سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے انتقال کا معاملہ، تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن تشکیل

Published On 27 June,2021 11:05 pm

کوئٹہ: (دنیا نیوز) حکومت بلوچستان نے سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے انتقال کے معاملے کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن تشکیل دیدیا ہے، اس سلسلے میں صوبائی محکمہ داخلہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق کمیشن میں ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ظہیر کاکڑ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان حکومت نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے انتقال موت کی عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا اعلان وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے مرحوم عثمان کاکڑ کے گھر تعزیت کے موقع پر کیا تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے عثمان کاکڑ کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عثمان کاکڑ کے لواحقین کی تسلی کیلئے ہر قدم اٹھائے گی جس کا وہ مطالبہ کرینگے، اس معاملے پر ان کیساتھ ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور جوڈیشل انکوائری کیلئے متعلقہ حکام کو لکھ دیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعلیٰ کے احکامات پر صوبائی محکمہ داخلہ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کیلئے خط لکھا تھا

اس خط میں بلوچستان ٹربیونل آف انکوائری آرڈیننس 1969ء کے سیکشن تھری کی ذیلی شق ایک کے تحت جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ پر مشتمل دو رکنی کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی گئی تھی۔