تازہ ترین
  • بریکنگ :- معاون خصوصی وزیراعظم نوابزادہ شاہ زین بگٹی کی میڈیاسےبات چیت
  • بریکنگ :- بلوچستان میں جوبھی ڈیلیورکرےاسےکام کرنےدیناچاہیے،شاہ زین بگٹی
  • بریکنگ :- بہاولپور:میراکام بلوچستان میں امن بحال رکھناہے،شاہ زین بگٹی
  • بریکنگ :- ناراض بلوچوں کومنانےکی بات چیت جاری ہے،شاہ زین بگٹی

بھارت میں افغان مہاجرین کیساتھ امتیازی سلوک ہونے لگا

Published On 27 August,2021 09:21 pm

نئی دہلی: (ویب ڈیسک)بھارتی حکومت صرف ہندو اورسکھ مہاجرین کو ملک میں داخلے کی اجازت دے کر افغان مہاجرین کے ساتھ امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہی ہے اور دیگر مذاہب اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے جس سے بھارتی قیادت کی امتیازی اور ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں10 ہزار کے قریب افغان مہاجرین ہیں، جن میں سے 90 فیصد کا تعلق ہندو اور سکھ برادری سے ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان سے آنے والے مہاجرین کو دو سال کے لئے سیاسی پناہ دی جارہی ہے اور ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد انہیں افغانستان واپس جانا ہوگا۔اس تناظر میں بھارت کے امتیازی کردار کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف مہاجرین کو سہولیات دینے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔زیادہ تر افغان مہاجرین کو بھارت میں سہولیات تک رسائی میں مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ان کے پاس شہریت نہیں ہے۔

بھارت افغان مہاجرین کے ساتھ امتیازی اور ناروا سلوک کررہاہے ۔بھارتی حکومت کے امتیازی رویے کی وجہ سے بھارت میں افغان مہاجرین کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ افغان شہریوں نے پہلی بار 1970کی دہائی کے آخر میں سوویت جنگ کے دوران ہندوستان ہجرت کی۔ افغان مہاجرین کو سم کارڈ اور گیس سلنڈر جیسی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے بھی سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔بھارت پناہ گزینوں کے 1951 کے اقوام متحدہ کے کنونشن کا دستخط کنندہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مہاجرین سے متعلق اپنا مخصوص قانون ہے۔

اس لیے یہ افغان مہاجرین کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔افغانیوں کو کبھی شہریت نہیں ملتی لیکن وہ ہندوستان میں دو سال کے لیے ویزے پر رہتے ہیں اور دو سال کی میعاد ختم ہونے کے بعد انہیں افغانستان واپس آکر اپنے ویزے کی تجدید کرانا پڑتی ہے۔یہ ہندوستان میں مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے امتیازی رویے کا واضح اشارہ ہے جو ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دیتی ہے۔ مذہبی امتیاز کی پالیسی کا عوامی طور پر اعلان کرتے ہوئے ، نبھارتی حکومت نے نہ صرف افغانستان سے انخلا کے خواہان لاکھوں مسلمانوں کو چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کی توجہ ہندوں اور سکھوں پر مرکوز ہے جو ابھی تک افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ہندوستان کی وزارت داخلہ کے مطابق ، شہریت کے خواہاں افراد کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ 31 دسمبر2014کو یا اس سے پہلے ہندوستان میں موجود ہیں۔بھارت دہری شہریت کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ بہت سے مغربی ممالک افغان شہریوں کو افغان شہریت رکھنے کا حق دیتے ہیں چاہے وہ اس ملک میں دوبارہ آباد ہوں۔افغان طالب علم جو بھارتی یونیورسٹیوں سے سٹوڈنٹ ویزا پر تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی بھارت میں ایک مبہم قانونی حیثیت اور ایک غیر یقینی مستقبل ہے ۔

حکومت نے کچھ گروپوں کو عارضی تحفظ دیا ہے جن میں تبتی اور سری لنکن بھی شامل ہیں۔ لیکن اس میں پناہ کے مجموعی فریم ورک کا فقدان ہے۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی پناہ گزین کی حیثیت کے باوجود ، بہت سے افغانی ہندوستان میں طویل مدتی منصوبے بنانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا نئی دہلی میں ایک دفتر ہے ، جو بہت سے افغانیوں اور دیگر کو پناہ گزین کا درجہ دیتا ہے اور انہیں شناختی کارڈ جاری کرتا ہے۔

یہ دفتر مارچ 2020 سے بند ہے۔افغان پناہ گزین بھارت میں کام کر سکتے ہیں نہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ افغانی ہندوستان میں غیر محفوظ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں افغان مہاجرین کی تعداد پاکستان اور ایران جیسے خطے کے دیگر ممالک یہاں تک کہ امریکا کے مقابلے میں کم ہیں۔ بھارت کا سی سی اے قانون بھارت میں مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے امتیازی رویے کا واضح اشارہ ہے جو ہندوتوا کے نظریے کو فروغ دیتا ہے۔ افغان مہاجرین بھارت میں بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ بھارت صرف افغان مہاجرین کی سکھ اور ہندو اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ افغان مہاجرین جن کے پاس یو این ایچ سی آر کارڈ نہیں وہ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔