تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی

بھارت جلد ہماری حکومت چلانے کی قابلیت جان لے گا: طالبان رہنما

Published On 27 August,2021 10:38 am

کابل:(روزنامہ دنیا)طالبان کے رہنما اور قطر میں مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن شہاب الدین دلاور نے کہا امارت اسلامی افغانستان میں سب کو نمائندگی دی جائے گی، بھارت جلد ہی یہ جان جائے گا کہ طالبان با آسانی حکومتی امور چلا سکتے ہیں.

میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان رہنما نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے ، پاکستان ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے ،انہوں نے تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر پاکستان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لئے خدمات کی فراہمی پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔شہاب الدین دلاور نے کہا کہ طالبان تمام ممالک کے ساتھ دو طرفہ احترام کی بنیاد پر پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا افغانوں نے ملک کو تقسیم کرنے اور تباہ کن جنگ میں مبتلا ہونے کی سازشوں کو ناکام بنا دیا،دنیا ہمارے اتحاد ، امن و سلامتی اور پرامن زندگی پر حیران ہے ۔

دریں اثنا لویہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا افغانوں نے کسی کے بھی سامنے نہ جھکنے کی تاریخ دہرائی ہے اور عالمی سپرپاور اور اس کی اتحادی نیٹو فورسز کو شکست دی ہے ، انہوں نے کہاکہ یہ ان ہزاروں افغان باشندوں کی قربانیوں کے باعث ممکن ہوا جنہوں نے اپنے ملک کو غیر ملکی قابض قوتوں سے آزاد کرانے کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔ لویہ جرگہ میں صوبہ قندوز سے تعلق رکھنے والے مشیران اور سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی، جنہوں نے نئی آنے والی حکومت کو اپنے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا ،طالبان رہنما نے کہاکہ 15 اگست سے افغانستان میں امن بحال کر دیا گیا ہے تاہم ہمیں اب آگے چیلنجز درپیش ہیں اور افغا نوں کے تمام طبقات کو ملکی امن و استحکام کیلئے اجتماعی طور پر کام کرنا ہوگا اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں کوئی گروپ اکیلا حکومت نہیں کرسکتا ۔ نئی حکومت میں افغانوں کے تمام طبقات کی نمائندگی ہوگی اور تمام طبقات جنگ زدہ اس ملک کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کام کریں گے ۔