تازہ ترین
  • بریکنگ :- شجاع آباد:بیگاں والی میں استادکاسبق یادنہ کرنےپرطالبعلم پرتشدد،پولیس
  • بریکنگ :- شجاع آباد:تشدد کےباعث 7سالہ علی حمزہ زخمی،اسپتال منتقل،پولیس
  • بریکنگ :- ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں تشددثابت،ملزم کی گرفتاری کےلیےچھاپے

برطانیہ نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا

Published On 17 September,2021 08:47 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) ملک کیلئے بڑی خوشخبری ہے، برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے نکال دیا۔

برطانیہ کے پاکستان میں ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ مجھے تصدیق کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ مجھے علم ہے کہ پچھلے پانچ ماہ کتنے مشکل تھا بہت سارے لوگوں کے لیے جو پاکستان اور برطانوی کے درمیان قربت پر انحصار کرتے ہیں۔

 انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ آپسی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

 ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ دونوں ممالک میں ڈیٹا شیئرنگ اور عوامی صحت کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

برطانوی ٹرانسپورٹ سیکرٹری گرانٹ شاپس کے مطابق برطانیہ نے پاکستان، ترکی اور مالدیپ سمیت 8 ممالک کو سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے نکال دیا ہے۔ ریڈ لسٹ سے باہر آنے کے فیصلے کا اطلاق بدھ 22 ستمبر کی صبح 4 بجے سے ہوگا۔ بین الاقوامی سفر کیلئے 4 اکتوبر سے نیا نظام متعارف کرا رہے ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق ریڈ لسٹ سے نکلنے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ ترکی، مصر، مالدیپ، سری لنکا، عمان، بنگلا دیش اور کینیا بھی شامل ہیں۔ 22 ستمبر سے ان ممالک سے برطانیہ آنے والے ہوٹل میں قرنطینہ کیے بغیر گھروں میں جا سکیں گے۔

دوسری طرف وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ 

 یاد رہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو اپریل سے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے جبکہ گزشتہ ماہ بھارت کو فہرست سے نکال دیا گیا تھا تاہم پاکستان کو اسی فہرست میں برقرار رکھا گیا ہے۔

29 اگست کو برطانیہ کی جانب سے ٹریول لسٹ اپ ڈیٹ کی گئی ہے جس میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر ریڈ لسٹ میں موجود رکھا گیا تھا جبکہ آئرلینڈ نے پاکستان کو سفری ریڈلسٹ سے خارج کر دیا گیا۔

پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے پر برطانیہ کے پاکستانی نژاد ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجی خطوط لکھے تھے اور معاملہ برطانوی وزیراعظم تک پہنچا تھا جس کے بعد پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت کی برطانوی وزارت صحت کے حکام سے براہ راست بات چیت ہوئی تھی۔

اپریل میں وفاقی وزیر اسد عمر نے برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے پر سوال اٹھایا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کئے گئے بیان میں وفاقی وزیر اسد عمر نے برطانوی فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کو اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کے لیے فیصلے کرنے کا حق ہے۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان سمیت کچھ ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ممالک کا انتخاب سائنس کو مدِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے یا خارجہ پالیسی کو؟

گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے برطانیہ کی سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ سے نکلنے کے لیے برطانیہ کو کورونا کے اعداد وشمار فراہم کر دیے ہیں اور ہمارے ڈیٹا کی درستگی میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ چند دن قبل برطانوی وزارت صحت کے حکام اور ماہرین سے انکی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔