تازہ ترین
  • بریکنگ :- مریم اورنگزیب سمیت ٹاسک فورس کے دیگر ارکان کی اجلاس میں شرکت
  • بریکنگ :- کمیٹی کا سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوسولرانرجی پرمنتقل کرنے کا فیصلہ، وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- بجلی پرسبسڈی والےعلاقوں میں بھی سولرپلانٹس لگانےکافیصلہ،مریم اورنگزیب
  • بریکنگ :- توانائی کی بچت اورگرین انرجی کوفروغ دینےکیلئےپالیسی بنانےپر بھی غور
  • بریکنگ :- سرکاری عمارتوں کوشمسی توانائی پرمنتقل کرنےکیلئے رپورٹ مرتب کرنےکی ہدایت
  • بریکنگ :- شمسی توانائی پرمنتقلی کیلئےسولرپینلزکوفروغ دینےکی ضرورت ہے،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- سولرپینلزسےاضافی بجلی گرڈاسٹیشنزکوبھی فروخت کی جاسکےگی،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- 4 سے 5 ہزارمیگاواٹ کےمنصوبوں پرکام جلدشروع ہوگا،وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت سولرانرجی سےمتعلق ٹاسک فورس کااجلاس

چاہتے ہیں معاشی معاملات ٹھیک ہوں، اگلے مرحلے میں الیکشن کرائیں گے: خواجہ آصف

Published On 12 May,2022 08:54 am

لندن: (دنیا نیوز) خواجہ آصف نے کہا ہے کہ معاشی اصلاحات اولین ترجیح ہے، جلد فیصلے کرنا ہوں گے، چاہتے ہیں معاشی معاملات ٹھیک ہوں، اگلے مرحلے میں الیکشن کرائیں گے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے وفاداری اور محبت اقتدار سے مشروط نہیں، وفاداری افراد سے نہیں ہوتی، افراد آج ہیں کل نہیں، دل کرتا ہے کل ہی نواز شریف کو وطن لے آؤں لیکن یہ فیصلہ پارٹی کرے گی، نواز شریف وطن آئیں گے تو سیاسی درجہ حرارت بڑھے گا، نواز شریف کی قیادت کی قوم اور جماعت دونوں کو ضرورت ہے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان کا امریکا مخالف بیانیہ کوئی بیانیہ نہیں، عمران خان کبھی امپورٹڈ حکومت کبھی غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں، عارف علوی، عمران خان، قاسم سوری، عمر سرفراز چیمہ نے آئین کی خلاف ورزی کی، اگر قانون ضروری سمجھتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، سیاسی کارکن ہوں، مخالفین کو عوام کی رائے کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں، گرفتاریوں پر یقین نہیں رکھتے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی طرح کا رویہ اختیار نہیں کریں گے، اب جو بھی بات ہوگی آئین اور قانون کے مطابق ہوگی، مینڈیٹ کی ضرورت پڑی تو عوام میں جائیں گے، کسی صورت عمران خان جیسا رویہ نہیں رکھیں گے، اقتدار گیا تو اداروں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں، نواز شریف بڑی مثال ہیں جنہیں وزارت عظمیٰ سے سیدھا جیل بھیجا گیا۔