آرڈر بدنیتی پر مبنی، گورنر موجودہ سیشن میں اعتماد کا ووٹ لینے کا نہیں کہہ سکتے، سبطین خان

Published On 21 December,2022 07:40 pm

لاہور: (دنیا نیوز) سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا ہے کہ گورنر کا آرڈر بدنیتی پر مبنی ہے، موجودہ سیشن میں اعتماد کا ووٹ لینے کا نہیں کہہ سکتے، گورنر کا سمن تب ہوگا جب ہمارا اجلاس ختم ہو گا۔

سبطین خان نے کہا کہ دنیا نیوز کے توسط سے گورنر کو کہنا چاہتا ہوں اپنا بزنس ختم کر کےاجلاس کو ختم کر دیں گے، گورنر نے پہلے نو کانفیڈنس بھیجا ہے، اصول کے مطابق پہلے نوکانفیڈنس کو دیکھنا چاہیے، جب تک نوکانفیڈنس کا معاملہ نہیں ہوتا تب تک اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی، ہم اپنی گزارشات صدر مملکت کو لکھیں گے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ گورنرسپیشل سمن کال کرسکتے ہیں، اگر ایک سیشن پہلے سے چل رہا ہے تو اس پر گورنرسمن نہیں کر سکتے، سمن جب کرنا ہو گا تو وہ علیحدہ کرنا ہو گا، گورنرنےلکھا کہ سردارحسنین بہادردریشک ناراض ہیں لیکن حسنین بہادردریشک ہمارے ساتھ ہے۔

سبطین خان کا کہنا تھا کہ گورنرکے آرڈرمیں لکھا ہے کہ پرویز الہیٰ چودھری شجاعت کا اعتماد کھو چکے ہیں، گورنر نے نان ایشوز کو ایشو بنایا، سپریم کورٹ کا حکم ہے پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ معاملات حل کرے گا، چودھری شجاعت کا تو پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے کوئی معاملہ نہیں، گورنر کا آرڈر بدنیتی پر مبنی ہے۔
 

قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران گورنر کے ایڈوائس جاری کرنے کو مس کنڈکٹ قرار دیتے ہوئے صدر کو خط لکھ دیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے صدر کو لکھے گئے خط میں گورنر کے غیر آئینی اقدام کی نشاندہی کی گئی، سپیکر نے صدر مملکت سے گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی، گورنر صدر کا نمائندہ ہے اسے آئین شکنی پر مبنی اقدامات سے روکا جائے۔

صوبائی وزیر قانون نے سپیکر کی جانب سے صدر کو خط لکھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کے مس کنڈکٹ کے خلاف سپیکرپنجاب اسمبلی نے صدر مملکت کو خط لکھ کر گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔

راجہ بشارت نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا خط میں گورنر کے غیر آئینی اقدام کی نشاندہی کی گئی ہے، آئین کے آرٹیکل 101سب آرٹیکل 3 کے تحت صدر پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ گورنر کو گھر بھیج دیں۔