تاریخی خلائی مشن مکمل، سعودی خلاباز بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے

Published On 31 May,2023 06:58 pm

ریاض: (ویب ڈیسک) بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر آٹھ دنوں کے تحقیقاتی مشن مکمل کرکے خلانوردوں کی ٹیم بحفاظت زمین پرواپس اتر گئی۔

دوسرے ’آل پرائیویٹ مشن‘ میں دو امریکی اور پہلی مرتبہ ایک عرب خاتون سمیت دو سعودی خلا نورد شامل تھے ، خلائی سٹیشن پر آٹھ روزہ سائنسی ریسرچ کے بعد بدھ کو امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب اُترے۔

سپیس ایکس کریو ڈریگن کیپسول جو انہیں لے کر آیا نے 12 گھنٹے کی واپسی کی پرواز کی اور خلا سے زمین کی فضا میں داخلے کے بعد خیلج میکسیکو میں پیرا شوٹ کے ذریعے اُتارا، یہ علاقہ فلوریڈا کے ساحل کے قریب پانامہ سٹی میں ہے۔

واپسی کی اس پرواز کو سپیس ایکس اور مشن کے پیچھے موجود کمپنی ایکژیوم سپیس کی طرف سے مشترکہ ویب کاسٹ کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔

سعودی عرب نے کروڑوں ڈالر کے اس پرائیوٹ پروجیکٹ پر اپنے دو خلا بازوں ریانہ برناوی اور علی القرنی کو بھیجا تھا، ان کے ساتھ امریکی خلا باز پیگی وائٹسن اور جان شوفنر بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی خلا باز اسپیس کا سفر کرنیوالی پہلی عرب خاتون بن گئیں

اس مہم کی کامیابی کے ساتھ ہی ریانہ پہلی سعودی خلا باز بن گئی ہیں، وہ سٹیم سیل پر تحقیقات کرتی ہیں جب کہ القرنی سعودی ایئر فورس میں لڑاکا پائلٹ ہیں۔

ریانہ نے خلائی اسٹیشن سے واپسی سے قبل اپنے آنکھوں سے بہنے والے خوشی کے آنسووں کو پوچھتے ہوئے کہا،" ہر کہانی کا اختتام ہوتا ہے لیکن یہ ہمارے ملک اور ہمارے خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔"

مشن میں شامل سعودی خلابازوں علی القرنی اور ریانہ برناوی نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر آٹھ روزہ قیام کے دوران سعودی سکول کے بچوں کے ساتھ تجربات میں حصہ لیا۔

خلانوردوں کا سپیش شپ ایکس ڈریگن 300 پاؤنڈ سے زائد سامان کے ساتھ زمین پر واپس پہنچا جس میں ناسا کے سائنسی آلات کے علاوہ 20 سے زیادہ مختلف تجربات کا ڈیٹا شامل ہے۔

واضح رہے کہ 1985 میں سعودی فضائیہ کے پائلٹ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے امریکہ کے زیر اہتمام خلائی سفر میں حصہ لیا تھا جو خلا میں جانے والے پہلے سعودی بن گئے تھے۔ 

Advertisement