تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظرثانی کیس کاتحریری فیصلہ
  • بریکنگ :- عدالت نے 9 ماہ 2 دن بعدنظرثانی درخواستوں کاتحریری فیصلہ جاری کیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:جسٹس یحییٰ آفریدی نےاضافی نوٹ تحریرکیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سریناعیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں اکثریت سےمنظور،فیصلہ
  • بریکنگ :- 10رکنی لارجربنچ کا 4-6 کےتناسب سے سریناعیسیٰ کےحق میں فیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:فیصلہ جسٹس مقبول باقر،جسٹس مظہرعالم نےتحریرکیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:فیصلہ جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس امین الدین نےتحریرکیا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:عدالت کےجج سمیت کوئی قانون سےبالاترنہیں،فیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:کسی کوبھی قانونی حق سےمحروم نہیں کیاجاسکتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- جج کوڈآف کنڈکٹ کےمطابق اہلخانہ کےمعاملات پرجوابدہ نہیں،فیصلہ
  • بریکنگ :- جج اپنی اہلیہ اوربچوں کےمعاملات کاذمہ دارنہیں ہوتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:ہرشخص کواپنےکیےاعمال کاحساب دیناہوتاہے،فیصلہ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:کسی اورکی غلطی پردوسرےکوسزانہیں دی جاسکتی،فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ یاکوئی ادارہ سپریم جوڈیشل کونسل کوکارروائی کانہیں کہہ سکتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- صدرمملکت کی سفارش کےبغیرسپریم جوڈیشل کونسل کارروائی نہیں کرسکتی،فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ ازخودنوٹس کااختیارسپریم جوڈیشل کونسل پراستعمال نہیں کرسکتی،فیصلہ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کاسپریم جوڈیشل کونسل کوحکم آرٹیکل 211 کی خلاف ورزی ہے،فیصلہ
  • بریکنگ :- بعض اوقات ججزکی ساکھ متاثرکرنےکی کوششیں ہوتی ہیں،فیصلہ
  • بریکنگ :- ججزکےپاس اپنی صفائی پیش کرنےکیلئےعوامی فورم بھی نہیں ہوتا،فیصلہ
  • بریکنگ :- ایسی صورتحال میں عدلیہ کی بطورآئینی ادارہ ساکھ متاثرہوتی ہے،فیصلہ

ہرن کے سر سے پلاسٹک کا برتن کئی دن بعد نکال لیا گیا

Published On 27 November,2021 10:03 am

کینساس: (روزنامہ دنیا) انسانی غفلت سے معصوم جانوروں کی جان پر بن آتی ہے اور اب کئی روز سے ایک بے بس ہرن کے سر پر مرتبان نما پلاسٹک کے برتن کو الگ کرلیا گیا ہے۔

دردمند شہریوں نے اسے کئی روز قبل دیکھا تھا اور اسے تکلیف سے نجات دلانے کیلئے اس کا پیچھا کیا گیا جس میں کئی مرتبہ ناکامی بھی ہوئی۔ کینساس کے ایک نیشنل پارک میں اس ہرن کو سیاحوں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ قریبی پونی پریری پارک سے آیا ہے۔ اگرچہ اسے سب سے پہلے جیسکا نیول نامی خاتون نے دیکھا تھا اور چار روز تک اس کا پیچھا کیا تھا لیکن وہ ہاتھ نہ آیا۔

اس کے بعد خاتون نے دیگر لوگوں کو مدد کیلئے بلایا اور اس کی تلاش شروع ہوئی۔ خوش قسمتی سے وہ گھر کے ایک پائیں باغ میں دکھائی دیا جہاں بھاگنے کی جگہ بہت کم تھی۔ لوگوں نے مل کر اسے پکڑلیا اور اس کے منہ پر لگی پلاسٹک کی بالٹی کو نکال باہر کیا۔