تازہ ترین
  • بریکنگ :- کسی منحرف رکن کاپارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- پارٹی پالیسی کےخلاف جانےوالےرکن کاووٹ مستردتصورہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائے جاری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل ہے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:رائے تین ،دو کےتناسب سے دی گئی
  • بریکنگ :- جسٹس مندوخیل اورجسٹس مظہرعالم نے اختلاف کیا
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس اکثریتی رائےسےنمٹایاگیا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی پرپارلیمنٹ قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- اس حوالےسےقوانین کوآئین میں شامل کرنےکامناسب وقت ہے،تحریری رائے
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ مسئلے کے حل کیلئے قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- آرٹیکل 63اےسیاسی جماعتوں کوتحفظ فراہم کرتاہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کرناان کی بنیادوں کوہلانےکےمترادف ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کےذریعےہی سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کیاجاتاہے،اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- کسی رکن کومنحرف ہونےسےروکنےکیلئےموثراقدامات کی ضرورت ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےمعاملےپرقانون سازی کی جائے،سپریم کورٹ

2019ء: نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں دہشتگردوں سے زیادہ شہری ہلاک

Last Updated On 30 July,2019 05:47 pm

کابل: (ویب ڈیسک) رواں برس افغانستان میں نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد عسکریت پسندوں کے حملوں سے زائد نکلی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے رپورٹ میں کیا۔ 2019ء کی پہلے 6 ماہ کے دوران 1366 شہری اپنی جان سے ہاتھ بیٹھے۔

نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں مجموعی طور پر 717 عام شہری ہلاک ہوئے ، افغانستان فورسز کے ہاتھوں 403 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، عالمی فورسز کے ہاتھوں 314 شہری ہلاک ہوئے، اسی عرصے کے دوران طالبان اور داعش کے ہاتھوں 531 شہری مارے گئے۔ حملوں کے دوران 2446 سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے۔

 

دوسری طرف اقوام متحدہ نے اسے’چونکا دینے والی اور ناقابل قبول‘ صورتحال قرار دیدیا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے سربراہ ٹاڈامچی یاماموٹو کا کہنا ہے کہ فریقین امن کی طرف توجہ دیں تاکہ تشدد میں کمی آ سکے۔ اس طرح عام شہریوں کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ 2014ء کے بعد سے امریکی فوج آپریشنز میں حصہ نہیں لے رہی تاہم اس دوران وہ افغان سکیورٹی اہلکاروں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔