تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی:کورنگی میں ٹارگٹ کلنگ کاواقعہ غیرت کےنام پرقتل نکلا
  • بریکنگ :- مقتول نےپسندکی شادی کی تھی جس پربرادرنسبتی سےرنجش تھی
  • بریکنگ :- رمضان نےمسعودکےموبائل فون سےاس کےبھائی کےزخمی ہونےکی اطلاع دی،پولیس
  • بریکنگ :- مسعوداحمدکےقتل کامقدمہ تھانہ کورنگی صنعتی ایریامیں درج کیاگیا

آسام میں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کرنے پر اقوام متحدہ نے آواز اٹھا دی

Last Updated On 02 September,2019 06:53 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد آسام میں شب خون مارنے پر اقوام متحدہ نے آواز اٹھا دی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ نئی دہلی سرکار یقین دلائے کہ کوئی بے وطن نہیں رہے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چند روز قبل بھارت کی جانب سے ریاست آسام میں بسنے والے تقریباً بیس لاکھ کے قریب مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کے بعد انہیں ’’غیر قانونی وطن‘‘ قرار دیا ہے، جس پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے آواز اُٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار اس امر کو یقینی بنائے کہ جنوبی ایشیائی ریاست میں کوئی بھی بے وطن نہ رہے۔

فیلیپو گرانڈی نے جنیوا سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایسا کوئی بھی عمل جو اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ان کی شہریت سے محروم کر دے عالمی سطح پر بے وطنیت کے خاتمے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچائے گا۔

یاد رہے کہ آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر یا این آر سی کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست میں 31.1 ملین افراد کو شہریت دی گئی جبکہ 1.9 ملین (19 لاکھ) افراد کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا گیا۔ شہریت سے محروم رہنے والے افراد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ تاہم اپیل مسترد ہونے یا مقدمہ ہارنے کی صورت میں انہیں گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فیلیپو گرانڈی نے بھارت پر زور دیا کہ ایسے افراد جنکی شہریت قبول نہیں کی گئی ہے اُنکی معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے، طبی اور اعلی معیار کی قانونی سہولیات کی دستیابی کو بھی ممکن بنایا جائے۔

دوسری طرف بھارت میں موجود ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ غیر ملکی قرار دیے جانے والے افراد کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے، ان افراد کو شاید کام کرنے کی اجازت دے دی جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غیر ملکیوں سے متعلق بھارتی ٹربیونل کے فیصلے پر سوالات اُٹھاتے ہوئے قومی وعالمی معیارکے مطابق فیصلے کرنے پر زور دیا اور مودی سرکار سے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی غیر واضح بنیاد پر شہریت ختم نہ کی جائے اور ٹربیونل میں جانبدارانہ فیصلوں سے گریز کیا جائے۔ یہ لاکھوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے جسے تنگ نظری نہیں بلکہ فراغ دلی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔