تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوروناوباروس کی آبادی میں کمی کی بڑی وجہ بنی،ماسکوٹائمز
  • بریکنگ :- وباشروع ہونےکےبعد 6لاکھ6ہزار200افرادکی کوروناسےموت ہوئی،ماسکو ٹائمز
  • بریکنگ :- روس کی آبادی میں 2021میں 10لاکھ کمی،ادارہ مردم شماری روس
  • بریکنگ :- سویت یونین ٹوٹنےکےبعدایک سال میں آبادی میں یہ سب سےبڑی کمی ہے

اسرائیل نے حملہ کیا تو تل ابیب کو ملبے کا ڈھیر بنا دینگے: ایران کی جوابی دھمکی

Published On 28 January,2021 06:20 pm

تہران: (ویب ڈیسک)اسرائیل کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں کے جواب میں ایران کا کہنا ہے کہ اگر صہیونی ریاست نے حملہ کیا تو بدلے میں تل ابیب اور حیفا کو تباہ کر دینگے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی کمانڈر نے یہ دھمکی اسرائیلی فوج کے حالیہ بیانات کے ردعمل میں دی ہے۔اسرائیلی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتوں سے نمٹنے کے لیے نئے عسکری منصوبے وضع کیے جارہے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف کوئی معمولی سی غلطی بھی کی تو ہم ان تمام میزائل اڈوں کو نشانہ بنائیں گے جنھیں ایران پرحملوں کے لیے استعمال کیا جائے گا اور حیفا اور تل ابیب کو بہت مختصر وقت میں ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو ایران کی فوجی صلاحیتوں کا اادراک نہیں ہے۔خطے میں اس سرطانی پھوڑے (اسرائیل) کا خاتمہ ہونا چاہیے کیونکہ اس نے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے آرمی چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عفیف کوشاوی نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ صہیونی فوج ایران کے خلاف آپریشنل منصوبوں کو از سرنو ترتیب دے رہی ہے۔ اگر امریکا ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شامل ہوتا ہے تو یہ اس کی ایک بڑی غلطی ہوگی۔

انھوں نے تل ابیب یونیورسٹی میں تقریر میں کہا تھا کہ ایران یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ بم کے حصول کے لیے خفیہ یا اشتعال انگیز انداز میں پیش رفت کرے گا،اس بنیادی تجزیے کی روشنی میں مَیں نے آئی ڈی ایف (صہیونی فوج) کو موجودہ منصوبوں کے علاوہ متعدد نئے منصوبے وضع کرنے کا حکم دیا ہے۔ہم ان منصوبوں کا مطالعہ کررہے ہیں اور ہم ان پرآیندہ سال کے دوران میں مزید پیش رفت کریں گے۔

جنرل کوشاوی نے امریکا کی ایران سے جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت کی مخالفت کی اور کہا کہ اگر یہ جوں کا توں ہے یا اس میں بہتری لائی جاتی ہے اور امریکا اس میں دوبارہ شامل ہوجاتا ہے تو یہ تزویراتی نقطہ نظرسے غلط فیصلہ ہوگا۔