تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملزم عزیزالرحمان کےتینوں بیٹےایف آئی آرمیں نامزدہیں،ڈی آئی جی
  • بریکنگ :- ملزم کےبیٹوں پرمتاثرہ طالبعلم کودھمکیاں دینےکاالزام ہے،شارق جمال
  • بریکنگ :- عزیزالرحمان کی گرفتاری کاکریڈٹ سی آئی اےکوجاتاہے،شارق جمال
  • بریکنگ :- ملزم کوسی آئی اےنےمیانوالی سےگرفتارکیا،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن
  • بریکنگ :- ہمارےپاس کیس کےحوالےسےکافی شواہدموجودہیں،شارق جمال

بنگلا دیش: مودی کے دورے کے دوران پر تشدد مظاہرے جاری، مزید 5 افراد جاں بحق

Published On 27 March,2021 11:09 pm

ڈھاکہ: (ویب ڈیسک) بنگلا دیش میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے دورے کے دوران ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں مزید 5 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں کے سروں پر گولیاں ماری گئیں۔ ہلاکتوں کی تعداد دس ہو گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش میں نریندرا مودی کے دورے کے دوران سخت احتجاج جاری ہے، مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کیخلاف نعرے لگائے اس دوران سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہروں پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس برسائے گئے۔

ترک میڈیا سے بات کرتے ہوئے حفاظت اسلام کے جنرل سیکرٹری نے 10 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران اب تک بنگلا دیشی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں دس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔

16 کروڑ آبادی والے مسلم ملک میں ہسپتال کے دو ڈاکٹرز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حفاظتِ اسلام کے مزید پانچ افراد چل بسے ہیں۔ یہ ہلاکتیں ضلع برمبیرا میں ہوئیں، تین افراد یہاں لانے سے قبل ہی چل بسے تھے جبکہ دو افراد ہسپتال میں علاج کے دوران زندگی کی بازی ہار گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلا دیش: مودی کی آمد پر پرتشدد مظاہرے، مدرسے کے 3 طالبعلموں سمیت 4 جاں بحق

ہسپتال کے ڈاکٹر عبد اللہ المومن کا کہنا ہے کہ مزید 12 افراد کو ہسپتال میں طبی امدادی دی جا رہی ہے جو شدید زخمی ہیں، جاں بحق ہنے والوں کے سروں پر گولیاں ماری گئیں۔

اے ایف پی کے مطابق مقامی سطح پر پتہ چلا تو بتایا گیا کہ تین ہزار کے قریب مظاہرین نے شرکت کی۔ جبکہ مظاہرین سے نمٹنے کے لیے بنگلا دیش کی بارڈر گارڈ کو امن و امان کے پیش نظر تعینات کر دیا گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق احتجاج کے باعث انتظامیہ نے فیس بک پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ احتجاج کے دوران جعلی پوسٹیں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جس کے باعث احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔

حفاظت اسلام کے ترجمان زکریا نعمان فیاضی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے مدارس کے 10 ہزار سے زائد طلبہ نے احتجاج میں شرکت کی، ہائی وے کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس بات کی تصدیق حکومتی انتظامیہ نے بھی کی کہ ہائی وے بند ہونے سے مکمل طور پر ٹریفک معطل رہی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران شدت آنے کے بعد کارروائیاں کی ہیں، درجنوں شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق حفاظت اسلامی کے ہزاروں مدارس کے طلبہ نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کیخلاف احتجاج کیا اور مودی واپس جاؤ کے نعرے لگائے۔