تازہ ترین
  • بریکنگ :- ادویات کی قیمتوں میں 13باراضافہ ہوچکا،سراج الحق
  • بریکنگ :- چینی بحران میں وفاقی وزرا ملوث تھے،سراج الحق
  • بریکنگ :- پٹرول بحران پرغریب کی جیبوں سے 85 ارب روپےنکالےگئے،سراج الحق
  • بریکنگ :- مافیا اورجیب کترے ہرحکومت میں شامل ہوتے ہیں،سراج الحق
  • بریکنگ :- اگراپوزیشن چاہتی تواسٹیٹ بینک بل کبھی پاس نہ ہوتا،سراج الحق
  • بریکنگ :- شبرزیدی نےاعتراف کیاپاکستان معاشی طورپردیوالیہ ہوچکا ،سراج الحق
  • بریکنگ :- پشاور:حکومت نے سب کچھ آئی ایم ایف کے حوالے کردیا،سراج الحق
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ کانام لےکرہرقدم اسلام کےاصولوں کیخلاف اٹھایا،سراج الحق

افغانستان: مئی سے 15 اگست تک کب کیا ہوا ؟

Published On 16 August,2021 10:31 am

لندن: (روزنامہ دنیا) طالبان نے افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کے بعد کابل سمیت تمام بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اپریل میں امریکی صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکی فوج مئی سے 11 ستمبر کے دوران افغانستان سے نکل جائے گی، مئی میں طالبان نے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان فوج پر ایک بڑا حملہ شروع کیا اور دوسرے صوبوں میں بھی لڑائی کا آغاز کر دیا۔

جون میں اقوام متحدہ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ طالبان نے 370 اضلاع میں سے 50 سے زیادہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان نے جنوب میں اپنے روایتی گڑھوں سے دور شمال میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ 21 جولائی کو ایک سینئر امریکی جنرل کے مطابق طالبان ملک کے تقریباً نصف اضلاع پر قابض ہو گئے۔

6 اگست کو عسکریت پسندوں نے جنوب میں زرنج پر قبضہ کیا، جو کہ ایک سال میں ان کے قبضے میں آنے والا پہلا صوبائی دارالحکومت تھا۔ 13 اگست کو ایک دن میں طالبان نے مزید 4 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، جن میں ملک کا دوسرا شہر قندھار بھی شامل ہے۔

14 اگست کو طالبان نے شمالی شہر مزار شریف پر قبضہ کر لیا۔ 15 اگست کو طالبان نے بغیر کسی لڑائی کے مشرقی شہر جلال آباد پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح کابل کو بھی گھیر لیا ، افغان صدر تاجکستان چلے گئے اور ملک کا دارالحکومت کابل بھی طالبان کے کنٹرول میں آگیا۔