تازہ ترین
  • بریکنگ :- حکومت کاہرسیاسی میدان میں ڈٹ کرمقابلہ کررہےہیں،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- خواہش ہےبلدیاتی انتخابات پیپلزپارٹی جیتے،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- سندھ کواین ایف سی ایوارڈکےمطابق اس کاحصہ دیاجائے،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- بلدیاتی نظام کےحوالےسےقانون سازی کی جارہی ہے،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- نئےبلدیاتی نظام میں لوکل گورنمنٹ کوزیادہ اختیارات ملیں گے،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- لوکل گورنمنٹ کوتمام ادارےجوابدہ ہوں گے،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- بلدیاتی نظام کےذریعےکراچی میں زیادہ ڈیلیورکریں گے،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- مرتضیٰ وہاب کی2ماہ کی کارکردگی ایک جماعت کی 30سالہ کارکردگی سےبہترہے،بلاول
  • بریکنگ :- آئی ایم ایف سےڈیل کی وجہ سےعوام مشکل میں ہیں،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- حکومتی پالیسیوں کابوجھ عوام مہنگائی کی صورت میں اٹھارہےہیں،بلاول بھٹو

افغانستان میں بھارت کی تاریخی انٹیلی جنس ناکامی :سابق جنرل

Published On 27 August,2021 10:55 am

نئی دہلی:(روزنامہ دنیا) انڈین آرمی کے سابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا کہنا ہے کہ بھارت امریکا کے حقیقی ارادوں، طالبان کی طاقت اور بدعنوان منتخب حکومت کی کمزوریوں کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے خود ہی مشکل میں پھنس گیا ہے۔

 میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک مضمون میں انہوں نے کہاکہ ہمارے سفارت کار یہ سمجھ نہیں پائے کہ بھارت کو طالبان سے معاملہ کرنے میں قومی مفاد مدنظر رکھنا چاہیے تھا نہ کہ ان کے نظریات کو رکھنا چاہئے تھا۔ جب ہمیں بہت سے اسلامی عرب ممالک، پاکستان اورایران سے تعلق رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے تو ہم طالبان کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کرسکتے ۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بھارت جس الجھن اور پریشانی کا شکار ہوگیا ہے اس کی اہم وجہ سٹرٹیجک متبادل کا فقدان نہیں بلکہ اس کی خوش فہمی اور بروقت صحیح فیصلہ نہ لینا ہے ۔یہ بھارت کی تاریخی انٹیلی جنس ناکامی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ہم شمالی اتحاد کے جن رہنماؤں پر بھروسا کررہے تھے وہ بھی پاکستان چلے گئے اور جب طالبان کی پیش قدمی شروع ہوئی تو وہ ہمارے مفادات کو بچانے کے لیے سامنے نہیں آئے ۔ بھارت کی موجودہ پریشانی کا ایک اور سبب ہندوقوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی آئیڈیالوجی یا نظریات ہیں، یہ افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی افغانستان کی صورت حال کا اپنے گھریلو سیاسی فائدے کے لیے استحصال کرنے سے بھی باز نہیں آئی۔