تازہ ترین
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان

طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عبوری حکومت پر امریکا کا اظہار تشویش

Published On 08 September,2021 09:40 am

کابل: (دنیا نیوز) افغانستان میں طالبان کی جانب سے اعلان کردہ عبوری حکومت پر امریکا نے تشویش کا اظہار کر دیا، صدر جو بائیڈن کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے چین، طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کی کوشش کرے گا۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے نئی عبوری حکومت کے قیام کا اعلان، امریکہ کا ردعمل، بعض ناموں پر تشویش کا اظہار کردیا۔ امریکی دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشکیل دی گئی عبوری حکومت میں شامل ناموں پر تشویش ہے، نئی حکومت میں شامل افراد طالبان رکن یا ان کے قریبی ساتھی ہیں، عبوری حکومت میں کسی خاتون کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

امریکی دفترخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ یہ عبوری حکومت ہے، وہ طالبان کے الفاظ نہیں، ان کےاقدامات دیکھیں گے،ترجمان نے کہا کہ امریکا کو امید ہے طالبان یہ یقینی بنائیں گے کہ ان کی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ چین کو طالبان سے بڑا مسئلہ درپیش ہے تو وہ طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے انتظامات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یقین ہے ایسا پاکستان، روس اور ایران بھی کریں گے۔ یہ سب سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب انھیں کیا کرنا ہے۔

صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکا اور اتحادیوں نے مل کر طالبان سے متعلق حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے اور فی الحال ان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔