تازہ ترین
  • بریکنگ :- فیٹف اقدامات پرعملدرآمدحتمی تاریخ سےایک سال قبل مکمل کرلیا،ایف بی آر
  • بریکنگ :- جون 2021میں پاکستان کیلئے7نکاتی نئےایکشن پلان کی منظوری دی گئی تھی
  • بریکنگ :- ایکشن پلان کے2نکات ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اورقیمتی دھاتوں کےڈیلرزسےمتعلق تھے
  • بریکنگ :- اینٹی منی لانڈرنگ،دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنےکیلئےقواعدمتعارف کرائے،ایف بی آر

نائن الیون: امریکی سرزمین پر تباہی کو 20 برس گزر گئے

Published On 10 September,2021 10:32 pm

واشنگٹن :(دنیا نیوز) امریکی سرزمین پر القاعدہ کی سب سے بڑی دہشت گردی کی کارروائی کو 20 برس گزر گئے، نائن الیون کے نام سے مشہور ہونے والے واقعے میں 2 ہزار 996 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ نائن الیون کے ماسٹر مائند خالد شیخ محمد اور چار ساتھیوں پر مقدمے کا آج تک فیصلہ نہ ہوسکا۔

 11 ستمبر 2001 امریکا کے لیے قیامت خیز دن ثابت ہوا، 20 برس گزر گئے لیکن دنیا پر نائن الیون کے اثرات کم نہ ہوسکے۔ اس دن دو بوئنگ طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر نامی دو بلند و بالا ٹاورز سے ٹکرا گئے تھے، جس کے باعث 2 ہزار 996 افراد چشم زدن میں لقمہ اجل بن گئے اور 25 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے۔
اس دن پونے 9 بجے پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کے 18 منٹ بعد ایک اور طیارہ جنوبی ٹاور سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا، 10 بجے تک دونوں ٹاورطیاروں کی ٹکر اور آگ کی تپش کے باعث زمین بوس ہوگئے تھے۔

ایک اور طیارہ واشنگٹن میں پینٹاگون کی عمارت سے جا ٹکرایا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب جانے والا چوتھا طیارہ راستے میں ہی گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

نائن الیون کے ذمہ داروں کو سبق سکھانے کے لیے امریکا نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ القاعدہ سے تعلق کا الزام لگا کر طالبان کی حکومت گرادی اور اپنی مرضی کے حکمران مسلط کیے۔ 10 برس بعد اسامہ بن لادن کو تو مار دیا گیا لیکن امریکا مزید 10 سال افغانستان میں لڑتا رہا۔

گزشتہ ماہ امریکا نے افغانستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ دیا اور طالبان دوبارہ اقتدار میں آگئے۔

ان حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں خالد شیخ محمد اور اس کے چار ساتھیوں پر اب بھی مقدمہ چل رہا ہے، الزام ثابت ہونے کی صورت میں تمام ملزمان کو سزائے موت ہوسکتی ہے۔

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش کی اعلان کردہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ بن کر رہ گئی۔ ایک ایسی جنگ جس کی نہ وقتی نہ ہی جغرافیائی وضاحت کی جا سکتی ہے۔ یہ بس عالمی سطح پر لڑی جا رہی تھی۔

جرمن میڈیا کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 9 لاکھ تیس ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام افراد براہ راست جنگ میں مارے گئے۔ ان میں سے قریب چار لاکھ عام شہری تھے جبکہ افغانستان میں لڑی جانے والی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں برطانیہ اور دیگر اقوام کے 450 فوجیوں سمیت، امریکا کے 2 ہزار 3 سو ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور بیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

براؤن یونیورسٹی میں قائم واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے تخمینے کے مطابق طالبان کے 42 ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2001 سے افغانستان، پاکستان، عراق اور شام میں ہونے والی جنگوں پر امریکا کی 5.9 ٹریلین ڈالر لاگت آئی ہے۔