تازہ ترین
  • بریکنگ :- مسجدنبویؐ کی بےحرمتی کرنےوالوں سےعزت وتکریم کی کیاتوقع ہوسکتی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ایک جماعت کےسربراہ کےطور پر بدتہذیبی کےپاتال میں جاگراہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- قوم بنانے نکلےتھے اورقوم کےاخلاق کوہی بگاڑدیاہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- وزیراعظم کا عمران خان کےمریم نوازسے متعلق بیان پر ردعمل
  • بریکنگ :- مریم نوازکیخلاف زبان درازی پر خواتین سمیت پوری قوم مذمت کرے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کم ظرفی کےاظہار سے عمران خان کےجرائم چھپ نہیں سکتے،وزیراعظم

موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کر دینی چاہیے: بشریٰ انصاری

Published On 14 September,2020 04:58 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستانی ڈراموں کی مشہور اداکارہ بشریٰ انصاری نے لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر زیادتی واقعے کے بعد کہا ہے کہ زیادتی کے مجرموں کے ہاتھ اور پاؤں توڑ کر ان کی جنسی صلاحیت ختم کر دینی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق موٹروے زیادتی کیس پر نہ صرف پورا ملک سراپا احتجاج ہے بلکہ سول سوسائٹی اور عوام کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ریپ کے مجرموں کو سرے عام پھانسی دی جائے۔ شوبز انڈسٹری میں بھی اس واقعہ پر شدید غم و غصہ پایا جاتاہے اور زیادتی کے مجرمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سنگسار کیا جائے: اداکارہ اشنا شاہ

موٹر وے واقعہ سے متعلق نامور اداکارہ بشریٰ انصاری نے انسٹاگرام پر لکھا کہ چاہتی ہوں زیادتی کے مجرموں کو زندہ رکھا جائے، انہیں پھانسی نہ دی جائے بلکہ ان کو ہاتھ، پاؤں اور ان اعضاء کے بغیر زندگی گزارنے دی جائے جس سے وہ خواتین کی زندگی کو برباد کرتے ہیں۔

 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Thinking wat to ask n what to think..just want the rapist to be alive..not to be hanged..they should live the rest of their lives , with the pain n helplessness with broken legs broken arms and with out the organs which destroy women and their souls..They should be alive to witness the hatred and pain of dying everyday like the rape victims and acid burnet women..like those parents who die every nite n every day..after their innocent boys n baby girls are brutal death..I demand and strongly demand to.cut and throw their sickness tools ...and make them.impotent..n break their legs n hands so that they just become a symbol for all others who are going to do this today tomorrow or day after.Because they will keep doing this until they don t see these results.PHANSI IS JUST A FEW MINUTES PUNISHMENT.BUT THEY SHUOLD BE A REAL "IBRAT" KA NISHAN..BUSSS BIHAT HOGAYA...BUSSSSSSS...Islam ki boat karty hain to practical banain.aankh k badly ankh.. to izzat or zillat k badly zillat...pl maulana Tariq Jameel.koi dharna koi ehtejaj ap bhi to Karen...ap ki yahan bohat zuroorat hay..boliayyyyy...please..

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra) on

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کی جنسی صلاحیت ختم کرکے ان کے ہاتھ اور پاؤں کو توڑدینا چاہیے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جائیں۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ زیادتی کے مجرموں کو بھی اسی درد کے ساتھ زندہ رہنا چاہیے جو درد ہر روز ریپ کا شکار یا تیزاب سے جلائی گئی خواتین اور وہ والدین (جن کے بچوں کو زیادتی کے بعد ماردیا جاتا ہے) محسوس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے زیادتی کیس، رابی پیر زادہ دورانِ سفر اسلحہ ساتھ لیکر چلنے لگیں

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب ملک میں اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک زیادتی کے مجرمان کو ایسی سزائیں نہ دی جائیں کیوں کہ پھانسی تھوڑی دیر کی سزا ہوتی ہے لہذا ان افراد کو ایسی سزا دے کر عبرت کا نشان بنانا چاہیے۔