تازہ ترین
  • Regional :- پی پی 38 ،دہری شہریت کامعاملہ،قیصراقبال کےکاغذات نامزدگی مسترد
  • Regional :- سیالکوٹ: قیصراقبال پی ٹی آئی کےامیدوارہیں
  • Regional :- اسپیکر مشتاق غنی کی زیرصدارت خیبرپختونخوااسمبلی کااجلاس
  • Regional :- پشاور:صوبائی وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے بجٹ پیش کیا

شادی کے لئے دراز قد مرد اچھا لگے گا، اداکارہ رمشا خان

Published On 06 June,2021 06:52 pm

کراچی: (دنیا نیوز) پاکستانی ڈراموں کی معروف اداکارہ رمشا خان نے کہا ہے کہ میں جس شخص سے شادی کرنے کی خواہش رکھتی ہوں اس میں حس مزاح ہو، ساتھ ہی دانش ورانہ کوالٹی کا مالک بھی ہو، دراز قد کے مرد اچھے لگتے ہیں البتہ لک میں عام سا بھی ہو تو چلے گا۔

اگر آپ پاکستانی ڈرامے بہت شوق سے دیکھتے ہیں تو پھر یہ ممکن نہیں کہ آپ نے اس خوبصورت اداکارہ کا نوٹس نہ لیا ہو۔ خاصی سرعت سے ابھرنے والی اس اداکارہ کا نام رمشا خان ہے۔ رمشا حال ہی میں کئی ڈراموں میں فنی صلاحیتوں کو مہارت سے پیش کرچکی ہیں۔ کیریئر کوزیادہ وقت نہیں گزرا لیکن وہ اس فن میں کافی مہارت حاصل کر چکی ہیں۔ ڈراموں کے ساتھ ایک فلم’’ تھوڑا جی لے ‘‘کے ذریعے سلور سکرین کا مزہ بھی چکھ چکی ہیں۔

دنیا نیوز: کئی ڈراموں کے علاوہ ایک فلم ’’ تھوڑ ا جی لے‘‘ میں کام کرچکی ہیں، کیا آئندہ بھی بڑے پردے پر جگمگانا چاہتی ہیں؟

رمشا خان: کورونا کی وجہ سے فلم انڈسٹری بند ہے لیکن ہاں جب بھی انڈسٹری پھر سے متحرک ہوگی میں بالکل، فلمیں کرنا چاہوں گی۔ مجھے امید ہے کہ اس بحران سے نکلنے کے بعد ہماری انڈسٹری پوری طرح بحال ہوجائے گی تب تک ٹی وی ڈرامے کرکے ہی مطمئن اور خوش رہوں گی۔ تین ٹیلی موویز کرچکی ہوں۔

دنیا نیوز: شوبز انڈسٹری میں کیریئر کا آغاز کون سی فیلڈ سے کیا؟

رمشا خان: اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ فلم سے ہی کیریئرکا آغاز کیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ نوعمری میں کئی بچوں کے کردار ادا کئے، سکول میں تھیٹر کیا جو میری فنی زندگی کی ابتدا تھی۔ میری والدہ کا اصرار رہا کہ اداکاری کا شوق ابھی سے ہونا چاہیے جبکہ میری تعلیم پہلی ترجیح رہی، سو پہلے اپنی تعلیم مکمل کی، ایم بی اے کی ڈگری میرے پاس ہے، عملی زندگی کیلئے تعلیم بے حد ضروری ہوتی ہے جس کا احساس وقت کے ساتھ ہوا۔ تھیٹر سے ہی اداکاری کا آغاز کیا۔ بعد ازاں ماڈلنگ کی دنیامیں قدم رکھا،متعدد مختلف برانڈ ز کے کمرشلز کئے اوراشتہاری فلموں میں کام کیا۔ایجوکیشن کے دور کے دوستوں نے فیچر فلم ’’تھوڑا سا جی لے‘‘ بنانے کا آغاز کیا تو انکارنہ کرسکی ،لیجنڈری مہتاب اکبر راشدی کے صاحبزادے رافع راشدی کی فلم میں مجھ سمیت کئی نئے فنکاروں نے کام کیا۔ فلم کو کامیابی تو نہ ملی البتہ میری شناحت ضرور ہوگئی۔ مقامی چینل پر وی جے کے طور پر بھی کام کیا۔

دنیا نیوز: ٹی وی ڈراموں تک کا سفر کیسے شروع ہوا؟

رمشا خان: ہدایتکار حسیب علی کا 95 اقساط کا سوپ ڈرامہ ’’ جیٹھانی ‘‘ میں پہلی بار کام کیا تھا۔ غیر معروف کردار کی وجہ سے اس سے شناحت نہ مل سکی۔ 2017 ء میرے لئے لکی ثابت ہوا جب پہلی فلم ریلیز ہوئی ،ایک فلم میں بڑا سپورٹنگ کردار ملا۔ پھر پہلا سیریل’’ تمہاری مریم‘‘ میں کام کیا جس میں مرکزی کردار کرکے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔اس برس دوٹیلی موویز ’’ تین شوقین‘‘ اور ’’ محبت ہوگئی آخر‘‘ کیں۔ ذاتی طور پر کم مگرجاندار کردار اور اچھے اسکرپٹ پر مبنی ڈراموں کو ترجیح دیتی ہوں۔اب تک ماہ تمام،استانی جی، خود پرست ،کیساہے نصیباں،عشقیہ،گھسی پٹی محبت ،کرچکی ہوں۔آج کل میگا اسٹاررز سیریل ’’شہنائی‘‘ میں مرکزی کردار کررہی ہوں۔

دنیا نیوز: اب بات چیت کا رخ آپ کی ذات اور زندگی کی جانب کرتے ہیں اگر رمشا کو اپنے الفاظ میں بیان کرو تو کیا کہیں گی؟

رمشا خان: میں ایک ایسے ناراض بچی کی طرح تھی جو دوسروں کی توجہ پانے کے لئے کوئی بھی شرارت کرنے کو تیار رہتی تھی پھر وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آتی گئی، خاص کر چھوٹی بہن کی آمد پر مجھ میں میچورٹی آئی اور احساس ہوا کہ اب میں بڑی ہو گئی ہوں اور مجھے ذمہ داری دکھانا چاہیے۔

دنیا نیوز: کچھ اپنے بچپن کے بارے میں بتائیں؟

رمشا خان: 23ء جون 1994ء کو کراچی میں میرا جنم ہوا، تعلیمی کیریئر کراچی میں مکمل کیا۔بچپن میں بہت پڑھاکو ہوا کرتی تھی لہٰذا اسکول میں اے گریڈ آتے تھے۔ مگر جوں جوں بڑی ہوئی تعلیم سے دلچسپی کم ہوتی چلی گئی اور میرا گریڈ گرتے گرتے بی ہوا پھر سی اور اس کے بعد ڈی تک پہنچ گیا، بات یہاں بھی نہیں رکی بلکہ محض پاس ہونے کو ہی کافی سمجھنے لگی۔ عام مضامین سے ہٹ کر مجھے ڈرائنگ اور اسکیچنگ کا شوق تھا۔ کالج میں بزنس
سٹیڈیز پڑھی۔

دنیا نیوز: اداکارہ بننے کا خیال کب آیا؟

رمشا خان: سچ پوچھیں تو ایکٹریس بننے کے بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا بس ارادہ یہی تھا کہ بزنس میں ڈگری لے کر کوئی اچھی سی جاب کرلوں گی مگر پھرآہستہ آہستہ اداکاری کی جانب سنجیدگی بڑھتی چلی گئی، ایکٹریس بنانے میں ممی کا بڑا کردار ہے، انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی ۔ انہیں میری صلاحیتوں پر ہمیشہ بھروسہ رہا سو ان ہی کے اعتماد نے مجھے ایکٹریس بنایا۔ممی میرے لئے رول ماڈل ہیں، انہیں دیکھ کر خاص قسم کی تحریک ملتی ہے، پاپا سے الگ ہونے کے بعد جس طرح انہوں نے ہم بہنوں کی پرورش کے لئے محنت کی اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، انہیں دیکھ کر ہی مجھ میں بھی بہت کم عمری میں کچھ نہ کچھ کمانے کا یہ جذبہ پیدا ہوا۔ممی جان صبح کے چار بجے اٹھ کر جاب کے لئے تیار ہوتیں اور پھر بارہ گھنٹے کام کرکے گھر لوٹتیں تو تھکن سے ان کا برا حال ہوتا تھا، ا ن کی محنت نے مجھے بھی اپنا بوجھ خود اٹھانے پر اکسایا لہٰذا مالی دد کے لئے میں نے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضرور کیا،تاکہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں، آپ کو شاید یہ جان کر یقین نہ آئے کہ اسکول کے زمانے سے ہی میں نے پارٹ ٹائم کام شروع کر دیا تھا۔

دنیا نیوز: اداکاری کی طرف دھیان کیسے آگیا؟

رمشا خان: یہ ممی ہی تھیں جنہوں نے احساس دلایا کہ مجھے ایکٹنگ میں کوشش کرنا چاہئے، ان کا یہی اصرار ہوتا تھا کہ تم اداکاری میں کامیاب رہوگی ۔ میں ان سے اختلاف کرتی۔ پھر ایک روز سوچا کہ ممی کی بات مان کر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے، اب احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے درست کہاتھا۔ ایک رو ز کسی چینل کو اپنے شو کی میزبانی کے لئے کم عمر بچی کی تلاش تھی، میں نے بھی آڈیشن دے دیا اور توقع کے برخلاف میرا انتخاب ہوگیا۔ وی جے کی حیثیت سے وہ شو تقریباً چھے ماہ تک کیا۔ جس کے بعد تعلیم میں مصروف ہوگئی۔ کئی سالوں کے بعدماڈلنگ سے پروفیشنل کیریئر کی شروعات ہوئی۔

دنیا نیوز: ماڈلنگ کے شعبے میں آمد کیسے ہوئی؟

رمشا خان: یونیورسٹی میں ماڈلنگ کی آفرز آنا شروع ہوگئیں۔ لمبے قد کی وجہ سے لوگ ماڈلنگ کے لئے اپروچ کرنے لگے تھے ۔ ایک برانڈ کے لئے ماڈلنگ سے ابتدا ہوئی۔ پہلا تجربہ بہت تھکا دینے والا تھا،میں نے مسلسل 18 گھنٹے تک شوٹ کروایا ، پچاس ڈریسز پہنے ہوں گے، ایک کے بعد ایک لباس بدلنا اور اونچی ہیل پہن کر مسلسل کھڑے رہنا ایسا عمل تھا جس نے بے حال کرکے رکھ دیا۔پوری رات سو نہیں سکی۔ کمر بری طرح درد کررہی تھی۔ تب مجھے لگا کہ یہ کام میرے بس کا نہیں ۔چنانچہ ٹی وی کمرشلز کو ترجیح دینے لگی۔ پہلے شوٹ میں بہت زیادہ نروس تھی، کیمرے کے سامنے پوز بنوانابھی نہیں جانتی تھی۔ بلکہ کیمرے کے سامنے بہت شرم آ رہی تھی ۔ دیگر ٹیم ممبرز نے بھرپور سپورٹ کیا اور یوں کسی نہ کسی طرح اپنا کام کرنے میں کامیاب ہوئی ۔

دنیا نیوز: تو گویا ’’کیمرے سے دوستی ‘‘کے لئے بہت محنت کرنا پڑی؟

رمشا خان: ایسا ہی ہے، کیمرے کا سامنا کرنا میرے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا پھر حوصلہ پست کرنے والے بھی تھے۔ ایک بہت اچھی دوست اکثر کہتی رہتی کہ میں ایکٹریس نہیں بن سکتی کیونکہ مجھ میں اس کی صلاحیت نہیں، اس قسم کی باتوں سے دل ٹوٹ جاتا تھا، وہ طعنے دیا کرتی کہ تمہارا چہرہ کچھ خاص نہیں نہ ہی تم اتنی محنت کرسکتی ہو کہ کامیاب اداکارہ بن سکو، اس کی ان باتوں کو بمشکل برداشت کرپاتی تھی ۔انہی دنوں فلم ’’تھوڑا جی لے‘‘ کی آفر ہوئی، میرا آڈیشن اتنامتاثر کن نہیں رہا اس کے باوجود ڈائریکٹر نے مجھے ہی کردار دے دیا۔ چنانچہ میری اداکاری کی تربیت شروع ہوئی ، یوں اداکارانہ صلاحیتوں میں نکھار اآتا چلا گیا گوکہ وہ فلم باکس آفس پر کامیاب تو نہ ہوپائی لیکن اس مووی سے میں اداکارہ بننے میں کامیاب ہوگئی۔

دنیا نیوز: مختصر کیریئر میں انڈسٹری کو کیسا پایا؟

رمشا خان:ابھی میری سہیلیوں کا تعلق انڈسٹری سے نہیں ہے، انڈسٹری کے باہر کے اپنے دوستوں کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو ایزی سمجھتی ہوں۔

دنیا نیوز: کسی بھی ڈرامے میں کام کرنے سے پہلے کون سی باتیں پیش نظر ہوتی ہیں؟

رمشا خان: اگر کہانی اور اپنا کردار اچھا لگے تو فوراً ہاں کہہ دیتی ہوں۔

دنیا نیوز: ذاتی طور پر کس قسم کی انسان ہیں؟

رمشا خان: روحانیت پر یقین رکھتی ہوں اور خود کو رب سے قریب کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھتی ہوں۔

دنیا نیوز: ایکٹریس بننے کے بعد خود میں کیا تبدیلی محسوس کی؟

رمشا خان: جیسی پہلے تھی ویسی ہی اب بھی ہوں،بالکل بھی نہیں بدلی،اب بھی میرے پاؤں زمین پر ٹکے ہیں، شہرت وغیرہ کو کبھی دماغ میں گھسنے نہیں دیا۔

دنیا نیوز: بطور ایکٹریس کس طرح کے خوف سے دوچار رہتی ہیں؟

رمشا خان: چاہتی ہوں کہ ورسٹائل اداکارہ کہلاؤں۔ وہ ایک پل، میں حنا کا ڈارک کیریکٹر کیا تھا تو اس کے بعد اسی طرح کے کرداروں کی آفرز ملنے لگی تھیں لیکن انکار کر دیا کیونکہ ٹائپ کاسٹ بننا نہیں چاہتی تھی۔

دنیا نیوز: کیا زندگی میں کبھی کوئی ایسا نہیں آیا جسے اپنا بنانے کی خواہش ہو؟

رمشا خان: ایکٹریس بننے سے پہلے کسی سے ملاقاتیں ہوئی تھیں، شوبز میں ایسی مصروف ہوئی کہ پھر وقت نہیں دے پائی اور یوں تعلق ختم ہو گیا۔

دنیا نیوز: مستقبل کے کیا ارادے ہیں؟

رمشا خان: نہیں معلوم کہ مستقبل کے تھیلے میں میرے لئے کیا رکھا ہے، ویسے بھی اچھی پلانر نہیں اسی لئے آنے والے وقت کے بجائے حال کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔

تحریر: مرزا افتخار بیگ