تازہ ترین
  • بریکنگ :- کراچی:عملی امتحانات ری شیڈول کرنے کیلئے کالجز کو ہدایات جاری کر دیں،ترجمان
  • بریکنگ :- کراچی:بارشوں کےپیش نظراعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نےآج ہونے والےپرچےملتوی کردئیے
  • بریکنگ :- آرٹس ریگولر،پرائیوٹ اور خصوصی افراد کےمتحانات ملتوی کردئیے ہیں،ترجمان انٹر بورڈ
  • بریکنگ :- تمام ملتوی شدہ پرچےاب 23 اگست کو انہی مراکز میں لیےجائیں گے،ترجمان

کرونا وائرس کیسے پھیلتا، علامات کیا ہیں اور کیسے بچا جا سکتا ہے؟

Last Updated On 27 February,2020 05:17 pm

لاہور: (دنیا نیوز) پاکستان میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آنے کے بعد مشتبہ افراد کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے، اس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہر فلو کرونا وائرس سے نہیں ہوتا۔ کسی کو زکام یا کھانسی ہو تو گھبرائیں نہیں۔ کوئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہو تو ان علامات سے پہچانا جا سکتا ہے۔

کرونا وائرس کی علامات

کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کو سب سے پہلے بخار ہوتا ہے۔

اس کے بعد خشک کھانسی آتی ہے۔

پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

کچھ مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے نوبت آ جاتی ہے۔

اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مرض کی علامات ظاہر ہونے تک 14 دن لگ سکتے ہیں۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ علامات ظاہر ہونے کا عرصہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔

اگر اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ کو ئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہے
تو پھر بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والے 44 ہزار مریضوں کے ڈیٹا کے جائزہ کے بعد عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 81 فیصد افراد میں اس کی ہلکی پھلکی علامات ظاہر ہوئیں، 14 فیصد میں شدید علامات ظاہر ہوئیں جبکہ پانچ فیصد لوگ شدید بیمار ہوئے۔ اس بیماری سے مرنے والوں کی شرح صرف ایک سے دو فیصد رہی۔

کرونا وائرس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اپنے ہاتھ ایسے صابن سے دھوئیں جو وائرس کو مار سکتا ہو۔
کھانستے یا چھینکتے ہوئے اپنے منہ کو ٹشو سے ڈھانپیں۔

اس کے فوری بعد ہاتھ دھوئیں تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔

کسی چیز کو چھونے کے بعد اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو نہ چھوئیں۔

ایسے لوگوں کے قریب نہ جائیں جو کھانس رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔

ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں۔

طبیعت خراب ہو تو گھر میں رہیں۔

بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

طبی حکام کی ہدایت پر مکمل عمل کریں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی تک اس مرض کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم مرض کی روک تھام کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے۔ امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمائی جا سکے گی۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا۔ امکان ہے کہ موسم میں تبدیلی اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے گی۔