تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس
  • بریکنگ :- کوئٹہ:لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی ،ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی کی شرکت
  • بریکنگ :- کوئٹہ:چیف سیکرٹری بلوچستان اور پلاننگ کمیشن حکام کی شرکت
  • بریکنگ :- کوئٹہ:شرکاکو پیکج میں شامل منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ
  • بریکنگ :- پیکج میں مختلف سیکٹرز کے 122 منصوبے شامل ہیں،بریفنگ
  • بریکنگ :- کوئٹہ:اجلاس میں پیکج پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کیلئےفیصلے

بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کا شعبہ حادثات گزشتہ 2 سال سے غیر فعال

Published On 23 August,2021 01:49 pm

کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کا شعبہ حادثات گزشتہ 2 سال سے غیر فعال ہے جس کی تعمیر کے لیے اربوں روپے بجٹ میں رکھنے کے باوجود بھی محکمہ بی اینڈ آر کی جانب سے توجہ نہیں دی جا رہی۔

کوئٹہ کے سب سے بڑے سرکاری سول ہسپتال میں نیا ٹراما سینٹر بننے کے بعد پرانی شعبہ حادثات کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے توڑا گیا مگر دو سال گزرنے کے باوجود عمارت کا ملبہ جوں کا توں پڑا ہوا ہے، ہسپتال کے داخلی دروازے سے کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مریضوں کو لانا مشکل ہو گیا ہے۔

ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر جاوید کا کہنا ہے کہ مریضوں کی زندگی اولین ترجیح ہے۔ محکمے کو کئی بار اس حوالے سے آگاہ بھی کیا گیا ہے تاہم صورت حال بہتر نہ ہوسکی جس کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

شعبہ حادثات جس کی تعمیر کی ذمہ داری محکمہ بی اینڈ آر کو 2 سال پہلے دی گئی تھی جو اتناعرصہ گزر جانے کے باوجود تعمیر نہ ہو سکی جبکہ محکمہ صحت کی باگ ڈور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود مسلے پر توجہ نہ دینا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔