اسلام آباد: (دنیا نیوز) امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکا عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانا اور افغان مسئلہ کا پُرامن حل چاہتا ہے جبکہ مشیر قومی سلامتی امور ناصر جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغان جنگ جیتنے کی کوشش کے بجائے اسے ختم کرنا، پاکستان اور امریکہ کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہو گا
امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ ایلس ویلز نے مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ اور سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنوعہ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی کے امور اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ دہائیوں پرانے افغان مسئلہ کا جلد حل نکالنے کیلئے کاوشیں تیز کرنا ہونگی۔ افغان مسئلہ کا حل پاکستان اور امریکا دونوں کے مفاد میں ہے۔ ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دورہ کابل میں افغان قیادت کیساتھ مثبت، تعمیری اور تفصیلی گفتگو ہوئی۔ افغان صدر کی امن پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں، اس سے دیرینہ تنازع کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ مشیر قومی سلامتی امور کا کہنا تھا کہ سب کو مل کر افغان قیام امن کیلئے کام اور افغانیوں محرومیوں کو دور کرنا ہو گا۔ افغان جنگ جیتنے کی کوشش کے بجائے اسے ختم کرنا ہو گا۔
ناصر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ افغان مسئلہ کا حل امریکا اور علاقائی ممالک کی کاوشوں کیساتھ ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہمارا قومی مفاد ہے۔ پاکستان اور امریکا کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہو گا اور دو طرفہ سطح پر انٹیلی جینس معلومات کا تبادلہ یقینی بنانا ہو گا۔
اس موقع پر امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان صدر کی امن پیشکش پر مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ امریکا عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانا اور افغان مسئلہ کا پُرامن حل چاہتا ہے۔ پاک افغان بہتر تعلقات سے تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔ امریکا، پاکستان کیساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی میں تعاون کریں گے۔ ملاقات میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔ دریں اثناء ایلس ویلز سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے بھی ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی۔