تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکستان میں کرپشن مزیدبڑھ گئی،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- پاکستان کرپشن رینکنگ میں 16درجےاوپرچلاگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان دنیامیں 140ویں نمبرپرآگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- 2020میں پاکستان کانمبردنیامیں 124واں تھا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- 2020میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کااسکور 31تھا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- 2021میں کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کااسکور 28ہوگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں اسکورکم ہوناکرپشن میں اضافےکوظاہرکرتاہے
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 180ممالک کاکرپشن پرسیپشن انڈیکس جاری کردیا

پی ٹی آئی حکومت کا ایک سال، پٹرول 25 روپے لٹر مہنگا ہوا

Last Updated On 01 August,2019 08:42 am

اسلام آباد: (سید ظفر ہاشمی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے اقتدار کے پہلے سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 مرتبہ اضافہ اور 4 مرتبہ کمی کی جبکہ 2 مرتبہ قیمتوں کو برقرار رکھا گیا۔

موجودہ حکومت اگست 2018 میں برسراقتدار آئی تو اپنے پہلے مہینے کے دوران یعنی ستمبر 2018 کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔ یکم اکتوبر 2018 کو قیمتوں میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا اور ستمبر کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا۔ یکم نومبر 2018 کو پہلی مرتبہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا اور پٹرول کی قیمت میں 5 روپے، ہائی سپیڈل کی قیمت میں 6 روپے 37 پیسے، لائٹ ڈیزل میں 6 روپے 48 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد دسمبر 2018 کیلئے قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا اعلان کیا گیا۔ پٹرول اور ڈیزل 2، 2 روپے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کیا گیا۔

یکم جنوری 2019 کو بھی حکومت کی جانب سے عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری دی گئی اور پٹرول 4 روپے 86 پیسے، ڈیزل 4 روپے 26 پیسے اور مٹی کا تیل 52 پیسے فی لٹر سستا کیا گیا۔ یکم فروری 2019 کو بھی قیمتوں میں کمی کی گئی، اس بار یہ کمی صرف چند پیسوں تک محدود رہی مگر مارچ کے مہینے سے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کی جو روایت پڑی اس نے عوام پر مہنگائی کے بوجھ کو اتنا بڑھایا کہ ان کی چیخیں نکل گئیں۔ یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت میں اڑھائی روپے، ڈیزل کی قیمت میں پونے 5 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا گیا۔

یکم اپریل کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 6 روپے فی لٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا، اس اضافے سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھا لیکن حکومت کو تسلی نہیں ہوئی اور 2 مئی 2019 کو پٹرول کی قیمت میں تاریخی اضافہ کیا جو 9 روپے 11 پیسے فی لٹر پر مشتمل تھا، البتہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو 4 روپے 46 پیسے فی لٹر تک محدود رکھا گیا، اس بار یہ اضافہ ای سی سی کے ذریعے کرایا گیا، یکم جون کو بھی قیمتوں میں اضافے کی روایت برقرار رہی تاہم جولائی کے مہینے میں قیمتوں کو برقرار رکھا گیا۔ اب اگست میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ موجودہ حکومت جب اگست 2018 میں برسراقتدار آئی تھی تو پٹرول کی قیمت 92 روپے 83 پیسے تھی جو بڑھ کر اب 117 روپے 83 پیسے ہوگئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت 106 روپے 94 پیسے سے بڑھ کر 132 روپے 47 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 84 روپے سے بڑھ کر 103.84 فی لٹر ہوگئی ہے۔