تازہ ترین
  • بریکنگ :- مقتول صحافی حسنین شاہ اورعامربٹ میں رقم کاتنازع تھا،سی سی پی او
  • بریکنگ :- عامربٹ نےبھائی سےمل کرحسنین شاہ کےقتل کامنصوبہ بنایا،فیاض احمد
  • بریکنگ :- عامربٹ کےبھائی اور 2شوٹرزکوبھی جلدگرفتارکرلیں گے،فیاض احمد
  • بریکنگ :- حسنین شاہ کوقتل کرنےکیلئےشوٹرزکاانتظام کیاگیا،سی سی پی اولاہور
  • بریکنگ :- تفتیش شفاف ہوگی،کسی سےرعایت نہیں کی جائےگی،فیاض احمد
  • بریکنگ :- ہم سب سےپہلےملزم حیدرشاہ تک پہنچے،سی سی پی اولاہور

'ججوں پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں، طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں'

Last Updated On 20 November,2019 04:53 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ججوں پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں، طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں، جس کیس پر وزیر اعظم نے بات کی ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اجازت انہوں نے خود دی۔

 چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا وزیراعظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، عمران خان نے کہا تمام وسائل فراہم کرنے کو تیار ہیں، انہوں نے 2 دن پہلے خوش آئند اعلان کیا، اس وقت وسائل کی ضرورت تھی، ایک وزیر اعظم کو سزا دی، ایک نااہل کیا، ایک آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے، ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا وزیراعظم نے طاقتور اور کمزور کی بات کی، 3 ہزار ججز نے 36 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، ان فیصلوں میں کمزور لوگوں کے مقدمات بھی شامل ہیں، انہیں وسائل میں 25 سال سے زیر التوا مقدمات ختم کر دیئے، لاہور میں 2 مقدمات زیر التوا ہیں، وسائل کے بغیر ہم نے بہت کچھ کیا، اسلام آباد میں 25 کے قریب فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں، ہم نے ماڈل کورٹس بنائے، مگر کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹا، ہم نے ماڈل کورٹس کا اشتہار نہیں لگوایا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا عدلیہ انتہائی جانفشانی سے کام کر رہی ہے، سرکار سے ایک جج ایک آنا نہیں مانگا، موجود وسائل میں عدلیہ نے یہ سب اقدامات کیے، عدلیہ میں خاموش انقلاب آگیا ہے۔