تازہ ترین
  • بریکنگ :- عدم اعتماد جمع ہونے سے پہلے ملک ترقی کررہا تھا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا تھا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- ساڑھے 3 سال کے دوران بڑے چیلنجزکا سامنا کیا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- کوروناکےدوران انڈسٹری اورلوگوں کے روزگارکوبچایا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- ساڑھے 3سال میں 55 لاکھ نئےروزگارکےمواقع پیدا ہوئے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- کوروناسےبھارت،برطانیہ کی معیشت منفی گروتھ میں گئی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- کورونا کے باوجود پاکستان کی گروتھ 6 فیصد ہوئی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- کورونا کےباوجودزرعی پیداوارمیں بھی اضافہ ہوا،فرخ حبیب

علمائے کرام بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں، صدر مملکت

Published On 21 September,2020 09:29 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے علمائے کرام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ واریت ختم کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی اور صبر وتحمل کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ وحدت امت کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف کئی سازشیں ہوئیں، مگر ملک کے عوام دشمن کے مذموم عزائم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حکومت معاشرے میں انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔

وحدت امت کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہاء پسندی، فرقہ وارنہ تشدد اور بے گناہ افراد کے قتل کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام مذہبی فرقے کسی بھی فعل میں ملوث ہونے والے فرد کی متفقہ طور پر مذمت کریں گے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلام کے کسی بھی مسلک کو کافر قرار دیا جائے اور نہ ہی کسی مسلم اور غیر مسلم کو ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

اعلامیے میں کتب، پمفلٹس سمیت منافرت پر مبنی مواد کی اشاعت یا کیٹس، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے زریعے نفرت پھیلانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے اظہار یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے عوامی سطح پر مشترکہ اجتماعات کا اہتمام کیا جائے۔

اعلامیے میں حکومت پر ان افراد کے خلاف کارروائی کرنے پر زور دیا گیا جو عبادت گاہوں اور غیر مسلموں کی مقدس مقامات کی بے حرمتی میں ملوث ہیں کیونکہ اقلیتوں کی جانوں ان کی عبادت گاہوں اور املاک کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اعلامیے میں حکومت پر نیشنل ایکشن پلان کو مکمل طور پر نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔