تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

محدود وسائل کے باوجود پی آئی سی پشاور کی تکمیل قابل تحسین ہے: وزیراعظم

Published On 16 December,2020 01:09 pm

پشاور: (دنیا نیوز) وزیراعظم نے کہا ہے کہ صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، سرکاری ہسپتالوں کو نجی ہسپتالوں کے برابر لانا چاہتے ہیں، محدود وسائل کے باوجود پی آئی سی پشاور کی تکمیل قابل تحسین ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پی آئی سی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ابھی تک امراض قلب کا کوئی ہسپتال نہیں تھا، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں امراض قلب وارڈ کے نتائج اچھے نہیں تھے، پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بہت ضرورت تھی، ہسپتالوں کی تعمیر میں تاخیر پر لاگت بڑھ جاتی ہے، افغانستان سے بھی مریض پشاور علاج کرانے آئیں گے، ہم نے کورونا کے دوران فنڈز ڈھونڈے اور ہسپتال مکمل کیا گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا جتنا بھی ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے اس کا آدھا قرضوں کی مد میں چلا جاتا ہے، عوام کی صحت کا خیال رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہسپتال ریفارمز کا مقصد کارکردگی بہتر کرنا ہے، ریفارمز سے سرکاری ہسپتال بھی نجی ہسپتالوں کی طرح چلیں گے، سزا اور جزا کا قانون ختم ہونے سے گورنمنٹ ہسپتال نیچے آگئے۔

انہوں نے کہا کہ ایلیٹ لوگ یا وزرا علاج کرانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں کمزور طبقے کی ذمہ داری لی گئی تھی، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے، ہیلتھ کارڈ سے پرائیویٹ یا گورنمنٹ ہسپتال میں علاج کرایا جاسکے گا، حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ پورے ملک میں ہسپتال بنائیں۔

 قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے حیات آباد میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کیا۔ بریفنگ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی 250 بستروں پر مشتمل ہے، کارڈیو و سکولر، سرجری اور علاج کی اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات موجود ہیں، امراض دل کے ہسپتال میں 6 جدید لیبارٹریاں، 6 آپریشن تھیٹرز ہیں، ابتدائی طور پر ہسپتال 140 بستروں، 3 لیبارٹریوں اور 2 آپریشن تھیٹرز کیساتھ فعال ہے۔

بریفنگ میں عمران خان کو بتایا گیا کہ ہسپتال میں سالانہ 2500 سے 3000 ہارٹ سرجریز کی جا سکیں گی، ہسپتال میں صحت کارڈ سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکے گا، آئندہ چند دنوں میں سٹیٹ لائف کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔

وزیراعظم نے حیات آباد میں سپورٹس کمپلیکس کا بھی افتتاح کیا، 10 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر اور سازو سامان سے آراستہ کئے جانے والے جم کا افتتاح بھی کیا۔ بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس ہالز کو قومی سطح کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔ حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں فٹ بال گراونڈ، سکواش کورٹ، واکنگ ٹریک، مارشل آرٹ ہال، تائیکوانڈو ہال و دیگر سہولیات بھی موجود ہیں، حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں خواتین کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ فٹنس جم، سوئمنگ پول کا بھی افتتاح کیا۔

عمران خان کو نہ صرف ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر پر پیش رفت سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا بلکہ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کالام میں کرکٹ سٹیڈیم اور گراسی کرکٹ گراؤنڈ سوات کا بھی سنگِ بنیاد رکھا۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر مقامی کھیلوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کھیل جن کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ان کی ترقی کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے کھیلوں کی طرف صحیح توجہ نہیں دی گئی۔