تازہ ترین
  • بریکنگ :- مولانا فضل الرحمان کی زرداری ہاؤس اسلام آباد آمد
  • بریکنگ :- آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کےدرمیان ملاقات
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- دونوں رہنماؤں نے کچھ دیرپہلے وزیراعظم سے ملاقات کی تھی
  • بریکنگ :- ملاقات میں انتخابی اصلاحات اور معاشی بحران سے نکلنے پرمشاورت کی گئی

سلیم مانڈوی والا کے الزامات بے بنیاد، مناسب وقت پر جواب دیا جائے گا: نیب

Published On 23 December,2020 09:38 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی احتساب بیورو (نیب) نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب وقت پر اس کا جواب دیا جائے گا۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب معزز پارلیمنٹ اور تمام معزز پارلیمنٹرین کا بے حد احترام کرتا ہے۔ قومی ادارے کی نظر میں تمام اراکین کی انتہائی عزت و تقریم ہے۔ نیب سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا بھی انتہائی احترام کرتا ہے۔

ترجمان نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سلیم مانڈوی والا کی طرف سے نیب کے بارے میں بے بنیاد الزامات کا جواب آئین اور قانون کے تمام تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب وقت پر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مشیر داخلہ شہزاد اکبر پارلیمنٹ کے کام میں مداخلت نہ کریں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

خیال رہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ میں ڈیڑھ سال سے چیئرمین سینیٹ کو لکھ رہا ہوں، وہ خود ہی کمیٹی میں آئیں گے۔ یہ گرفتاری کی افواہ میڈیا نے اڑائی ہے۔ جانتا ہوں کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سینیٹ کمیٹی میں پیش ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں سینیٹ کے فورم کو استعمال نہ کروں، کیا سڑکوں پر جا کر اظہار کروں۔ وہ ہوتے کون ہیں جو کہیں سینیٹ کا فورم استعمال نہ کروں۔ چیئرمین سینیٹ کو دوبارہ لیٹر لکھوں گا۔ سینیٹ اجلاس کی دوبارہ ریکوزیشن کروں گا، ابھی معاملہ ختم نہیں ہوا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے مشیر داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمٹ کے کام میں مداخلت نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ سیاسی حکومت کا نہیں بلکہ اداروں کے کام کرنے کا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جب نیب کے حوالے سے کال موصول نہ ہوئی ہو۔ احتساب بیورو بدعنوانی روکنے کے لیے بنا، نجی کاروبار میں مداخلت کے لیے نہیں ہے۔