تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائے جاری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل ہے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:رائے تین ،دو کےتناسب سے دی گئی
  • بریکنگ :- جسٹس مندوخیل اورجسٹس مظہرعالم نے اختلاف کیا
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس اکثریتی رائےسےنمٹایاگیا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی پرپارلیمنٹ قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- اس حوالےسےقوانین کوآئین میں شامل کرنےکامناسب وقت ہے،تحریری رائے
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ مسئلے کے حل کیلئے قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- آرٹیکل 63اےسیاسی جماعتوں کوتحفظ فراہم کرتاہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کرناان کی بنیادوں کوہلانےکےمترادف ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کےذریعےہی سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کیاجاتاہے،اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- کسی رکن کومنحرف ہونےسےروکنےکیلئےموثراقدامات کی ضرورت ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےمعاملےپرقانون سازی کی جائے،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- کسی منحرف رکن کاپارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- پارٹی پالیسی کےخلاف جانےوالےرکن کاووٹ مستردتصورہوگا،سپریم کورٹ

غیرجانبداری کا تقاضا، جسٹس فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کیسزنہ سنیں:چیف جسٹس

Published On 11 February,2021 10:04 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان کے ترقیاتی کیس کے حوالے سے چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا وزیراعظم سے متعلق کیس کا سننا درست نہیں۔ غیرجانبداری کا تقاضا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کیسزنہ سنیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے ترقیاتی فنڈز کیس کا حکمنامہ جاری کر دیا گیا ہے، یہ حکمنامہ پانچ صفحات پر مشتمل ہے۔ جسے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے تحریر کیا ہے۔

چیف جسٹس کی طرف سے جاری کیے گئے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نامعلوم ذریعہ سے وصول شدہ وٹس ایپ پیغام کا حوالہ دیا، نامعلوم ذرائع سے وصول شدہ دستاویزات ججز کو فراہم کیے گئے۔ دستاویزات کی کاپی اٹارنی جنرل کو بھی فراہم کی گئی۔

حکمنامہ میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے نامعلوم نمبر سے وصول شدہ دستاویزات اصلی ہیں یا نہیں، اٹارنی جنرل نے کہا دستاویزات کے مستند ہونے پر سوالیہ نشان موجود ہے، اٹارنی جنرل نے استدعا کی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے۔

چیف جسٹس کی طرف سے جاری کیے گئے حکمنامے کے مطابق اٹارنی جنرل خالد خان نے کہا کہ اگر کوئی جج شکایت کنندہ ہو تو یہ مناسب نہیں وہ مقدمہ سنے، اٹارنی جنرل نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیلئے یہ مناسب نہیں وہ اس مقدمے کو سنیں۔

حکمنامے میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا اس صورتحال میں یہ مناسب نہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس مقدمے کو سنیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم عمران خان کیخلاف ذاتی حیثیت سے ایک درخواست بھی دائر چکے ہیں، غیر جانبداری اور بلا تعصب انصاف کی فراہمی کے اصول کو مدنظر وزیراعظم کیخلاف کیس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہیں سن سکتے۔

چیف جسٹس کی طرف سے جاری کیے گئے حکمنمے میں کہا گیا ہے کہ وفاق سمیت تمام حکومتیں ترقیاتی فنڈز کے اجراء کی نفی کر چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے مقدمہ نمٹا دیا اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے سے متعلق کیس کا تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، فیصلہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے تحریر کیا۔

چیف جسٹس کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا وزیراعظم سے متعلق کیس کا سننا درست نہیں۔ عدالت اراکین اسمبلی کے فنڈز سے متعلق درخواست نمٹاتی ہے۔ غیر جانبداری کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی وزیراعظم سے متعلق کوئی بھی مقدمہ نہ سنیں۔